9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں بڑا فیصلہ، 47 اشتہاری ملزمان کو 10،10 سال قید

0
1

9 مئی کے جی ایچ کیو حملہ کیس میں ایک اہم اور بڑی پیش رفت سامنے آگئی ہے۔ راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 47 اشتہاری ملزمان کو 10،10 سال قید اور فی کس 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے، جبکہ عدالت نے ان ملزمان کی جائیدادیں ضبط کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

عدالت کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق مختلف مقدمات میں قانونی کارروائیاں کئی سال سے جاری ہیں۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ان 47 ملزمان کو 9 مئی کے پرتشدد واقعات کی منصوبہ بندی اور مختلف مقامات پر ہونے والے حملوں میں ملوث قرار دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ان ملزمان پر جی ایچ کیو گیٹ، حمزہ کیمپ، آرمی میوزیم اور سکستھ روڈ میٹرو اسٹیشن سمیت مختلف مقامات پر حملوں، توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ، پولیس پر حملوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات تھے۔ پراسیکیوشن کی جانب سے جے آئی ٹی کی تحقیقات اور گواہوں کے بیانات کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔

یہاں اس مقدمے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ سزا پانے والے 47 ملزمان کو پہلے ہی اشتہاری قرار دیا جاچکا تھا۔ عدالتی کارروائی کے مطابق انہیں اخبار میں اشتہارات کے ذریعے عدالت کے سامنے پیش ہونے اور سرنڈر کرنے کا موقع بھی دیا گیا، لیکن کوئی ملزم عدالت میں پیش نہیں ہوا۔

اس کے بعد عدالت نے ان کے لیے اسٹیٹ کونسل مقرر کیا تاکہ قانونی کارروائی یک طرفہ طور پر نہیں بلکہ قانونی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھائی جاسکے۔ پراسیکیوشن نے مجموعی طور پر 19 گواہان کے بیانات قلمبند کرائے جبکہ اسٹیٹ کونسل نے گواہان پر جرح کی۔ ٹرائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔

رپورٹ کے مطابق اصل جی ایچ کیو حملہ مقدمے میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی سمیت متعدد ملزمان پر بھی فردِ جرم عائد کی جاچکی ہے، جبکہ اس کیس میں مجموعی طور پر 44 گواہان کے بیانات قلمبند کیے جانے کی اطلاع ہے۔

اس فیصلے کی سیاسی اور قانونی اہمیت بھی غیر معمولی ہے، کیونکہ 9 مئی کے واقعات پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ کے انتہائی حساس واقعات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان واقعات کے بعد فوجی تنصیبات اور سرکاری املاک پر حملوں کے مقدمات نے ملک کی سیاست، عدالتی نظام اور سیاسی جماعتوں کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھایا۔

تاہم اس فیصلے کو سمجھتے ہوئے ایک بنیادی قانونی نکتہ بھی اہم ہے: عدالت کی جانب سے سزا سنایا جانا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ ہے، اور قانونی نظام میں سزا کے خلاف اپیل کا حق موجود ہوتا ہے۔ اس لیے اس مقدمے کا حتمی قانونی سفر اعلیٰ عدالتوں میں بھی جاری رہ سکتا ہے۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ ان 47 ملزمان کے خلاف جائیداد ضبط کرنے کے عدالتی حکم پر کس حد تک عمل درآمد ہوتا ہے، اور کیا سزا پانے والے افراد مستقبل میں اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں؟

یہ فیصلہ 9 مئی کے مقدمات میں جاری قانونی کارروائی کے لیے ایک اہم سنگِ میل ضرور ہے، لیکن اس کے سیاسی اثرات بھی کم اہم نہیں۔ آنے والے دنوں میں اس فیصلے پر سیاسی جماعتوں، وکلا اور قانونی ماہرین کا ردعمل بھی سامنے آسکتا ہے۔

یعنی 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں آج کا فیصلہ صرف 47 افراد کی سزا تک محدود نہیں، بلکہ یہ اس پورے معاملے کی آئندہ قانونی اور سیاسی سمت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا