انسداد دہشت گردی عدالت میں ہنگامہ، علیمہ خان کی جائیدادوں سے متعلق سوال پر تلخ کلامی؛ سماعت ملتوی

0
1

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران اس وقت صورتحال کشیدہ ہوگئی جب علیمہ خان کے گواہ فتح اللہ برکی پر جرح کے دوران ان کی بیرونِ ملک جائیدادوں سے متعلق سوالات کیے گئے۔ سوال پر وکیلِ صفائی اور پراسیکیوشن کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور کارروائی روکنا پڑی۔

سماعت کے دوران پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے گواہ سے سوال کیا کہ آیا انہیں علیمہ خان کی بیرونِ ملک مبینہ غیر قانونی یا بے نامی جائیدادوں کے بارے میں علم ہے۔ وکیلِ صفائی فیصل ملک نے اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ سوال زیرِ سماعت مقدمے سے متعلق نہیں اور اسے جرح کا حصہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

صورتحال اس وقت مزید گرم ہوگئی جب علیمہ خان خود روسٹرم پر آئیں اور پراسیکیوشن کے سوالات پر اعتراض کیا۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا کاروبار بیرونِ ملک ہے اور ان کے خلاف جائیدادوں سے متعلق الزامات درست نہیں۔

پراسیکیوٹر نے دبئی اور نیو جرسی میں جائیدادوں سے متعلق سوالات کیے، جس پر علیمہ خان نے کہا کہ ان کی کوئی غیر قانونی جائیداد نہیں۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں ماضی میں سامنے آنے والے بے نامی جائیدادوں کے معاملے کا بھی حوالہ دیا۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے ایک سابق فیصلے اور جرمانے سے متعلق بھی سوالات کیے گئے۔ پراسیکیوشن کی جانب سے پوچھا گیا کہ کیا سپریم کورٹ کے حکم کے بعد جرمانے کی رقم ادا نہیں کی گئی؟ جواب میں علیمہ خان نے مؤقف اختیار کیا کہ تقریباً 2 کروڑ 94 لاکھ روپے جمع کرائے گئے تھے، تاہم بعد میں متعلقہ ٹربیونل نے انہیں کلیئر کردیا تھا۔

اسی دوران دونوں جانب سے سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جس کے باعث عدالت کا ماحول مزید کشیدہ ہوگیا۔

علیمہ خان نے عدالت سے درخواست کی کہ ان کا بیان بھی ریکارڈ کیا جائے۔ عدالت نے بیان ریکارڈ کرنے کا عمل شروع کیا تو وکیلِ صفائی کی جانب سے اعتراض سامنے آیا۔ اس پر جج امجد علی خان نے عدالت میں شور شرابے اور ڈیکورم برقرار نہ رکھنے پر برہمی کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ یہ عدالت ہے اور کارروائی کے دوران نظم و ضبط کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

صورتحال قابو میں نہ آنے پر جج اپنی نشست سے اٹھ کر چلے گئے اور مقدمے کی مزید سماعت ملتوی کردی گئی۔

معاملہ اصل میں کیا ہے؟

یہ مقدمہ 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق ہے اور علیمہ خان اس کیس میں نامزد ملزمان میں شامل ہیں۔ موجودہ کارروائی میں گواہ پر جرح اور مقدمے سے متعلق شواہد پر بحث جاری ہے۔ تاہم سماعت کے دوران سامنے آنے والے جائیدادوں کے سوالات کے حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ کسی شخص سے متعلق الزام، محض عدالت میں سوال کیے جانے کی بنیاد پر ثابت شدہ جرم تصور نہیں ہوتا؛ حتمی حیثیت عدالت کے فیصلے سے ہی متعین ہوتی ہے۔

آج کی کارروائی کا سب سے اہم پہلو یہ رہا کہ ایک قانونی جرح کے دوران جائیدادوں سے متعلق سوال نے عدالت کا ماحول انتہائی کشیدہ کردیا، جس کے نتیجے میں کارروائی مکمل نہ ہوسکی اور سماعت ملتوی کرنا پڑی۔

اب آئندہ سماعت میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ عدالت جرح کس انداز میں آگے بڑھاتی ہے، علیمہ خان کا بیان کس حد تک ریکارڈ ہوتا ہے اور 26 نومبر احتجاج کیس میں پراسیکیوشن کے شواہد کو عدالت کس نظر سے دیکھتی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا