ایرانی ریال خریدنے والوں کے لیے افسوسناک خبر، کرنسی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی

0
1

ایرانی ریال کے خریداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑی اور تشویشناک خبر سامنے آگئی ہے۔ ایران کی قومی کرنسی ریال امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخ کی نئی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور پہلی بار اوپن مارکیٹ میں ایک ڈالر کی قیمت 20 لاکھ ریال سے بھی تجاوز کر گئی۔

تازہ اوپن مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق ایک امریکی ڈالر تقریباً 20 لاکھ 27 ہزار ایرانی ریال تک پہنچ گیا، جبکہ ایک یورو کی قیمت 23 لاکھ 47 ہزار 600 ریال اور ایک برطانوی پاؤنڈ کی قیمت تقریباً 27 لاکھ 65 ہزار 900 ریال ریکارڈ کی گئی۔

یہ صرف ایک معمولی اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ ایرانی کرنسی پر بڑھتے ہوئے شدید دباؤ کی علامت ہے۔ عالمی رپورٹس کے مطابق ریال کی قدر میں مسلسل کمی کی بڑی وجوہات میں امریکی پابندیاں، ایران کی محدود ہوتی غیر ملکی زرمبادلہ تک رسائی، تیل کی برآمدات پر دباؤ اور ملک میں جاری شدید معاشی و جغرافیائی سیاسی بحران شامل ہیں۔

صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک طرف اوپن مارکیٹ میں ڈالر 20 لاکھ ریال سے اوپر جا چکا ہے، جبکہ ایران کا سرکاری ایکسچینج ریٹ اس سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔ اس فرق سے ملک میں کرنسی مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال بھی ظاہر ہوتی ہے۔

ریال کی مسلسل گرتی قدر کا سب سے بڑا اثر عام ایرانی شہریوں پر پڑ رہا ہے۔ درآمدی اشیا مہنگی ہونے کے ساتھ ساتھ روزمرہ استعمال کی بنیادی ضروریات بھی عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق حالیہ مہینوں میں خوراک اور دیگر بنیادی اشیا کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

معاشی دباؤ کے ساتھ ساتھ ایران کو امریکہ کی جانب سے مزید سخت پابندیوں کا بھی سامنا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے ایران کے ساتھ مالی اور تجارتی تعلقات رکھنے والے ممالک اور اداروں پر بھی دباؤ بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔

یعنی ایرانی ریال کی یہ تاریخی گراوٹ صرف کرنسی مارکیٹ کی خبر نہیں بلکہ ایران کی مجموعی معاشی صورتحال کے لیے ایک بڑا وارننگ سگنل سمجھی جارہی ہے۔

اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ ایرانی حکومت ریال کو مزید گرنے سے روکنے کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے، اور نئی امریکی پابندیوں کے بعد آنے والے دنوں میں ایرانی کرنسی کی صورتحال کس طرف جاتی ہے۔

ایرانی ریال کی تاریخی گراوٹ نے ایک بار پھر یہ ثابت کردیا ہے کہ معاشی اور سیاسی بحران کا سب سے فوری اثر کسی بھی ملک کی کرنسی پر پڑتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا