کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی پر احتجاج، اخونزادہ حسین یوسف زئی سمیت متعدد افراد کے خلاف مقدمہ، سابق سینیٹر مشتاق احمد تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

0
1

اسلام آباد میں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے کیے گئے احتجاج کے بعد پولیس نے اخونزادہ حسین یوسف زئی، سابق سینیٹر مشتاق احمد اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا، جبکہ عدالت نے سابق سینیٹر مشتاق احمد کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

پولیس کے مطابق احتجاج اسلام آباد کے سیکٹر ایف-10 مرکز میں کیا گیا، جہاں ایف آئی آر کے مطابق تقریباً 400 سے 500 افراد شریک تھے۔ مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مظاہرین نے سڑک بلاک کرکے ٹریفک کی روانی متاثر کی اور پولیس کی جانب سے منتشر ہونے کی ہدایات کے باوجود احتجاج جاری رکھا۔

ایف آئی آر میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران بعض مظاہرین نے ایک میڈیا ادارے کی ڈی ایس این جی (DSNG) گاڑی کو نقصان پہنچایا، سرکاری املاک کو بھی نقصان ہوا اور پولیس اہلکاروں سے مزاحمت کی گئی۔ مقدمے کے متن کے مطابق پتھراؤ کے نتیجے میں چند پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

پولیس نے مقدمہ دہشت گردی، اقدامِ قتل، پیس فل اسمبلی اینڈ پبلک آرڈر ایکٹ سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا ہے۔

بعد ازاں پولیس نے گرفتار سابق سینیٹر مشتاق احمد اور ایک اور ملزم دانیال کو ڈیوٹی جج رخشندہ شاہین کی عدالت میں پیش کیا۔ دورانِ سماعت پراسیکیوشن نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان سے گاڑی اور اسلحہ برآمد کرنا مقصود ہے، اس لیے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 30 روزہ ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے سابق سینیٹر مشتاق احمد اور دیگر ملزمان کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

یہ مقدمہ اس وقت مزید توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جبکہ آئندہ سماعت پر تفتیش میں ہونے والی پیش رفت عدالت کے سامنے پیش کی جائے گی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا