چین نے فوجی مشقوں میں ہتھیار سے لیس روبوٹ کتا متعارف کرا دیا، جدید جنگی حکمتِ عملی کی نئی جھلک

0
3

چین نے جدید جنگی ٹیکنالوجی کی جانب ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے اپنی فوجی مشقوں میں ہتھیار سے لیس روبوٹ کتے کا عملی مظاہرہ کیا ہے، جس نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔

چین اور کمبوڈیا کی مشترکہ “گولڈن ڈریگن” فوجی مشقوں کے دوران چار ٹانگوں والے ایک جدید روبوٹ کتے کو پیش کیا گیا، جس کی پشت پر خودکار رائفل نصب تھی۔ اس روبوٹ کو شہری علاقوں میں جنگی کارروائیوں کے دوران انسانی فوجیوں سے پہلے آگے بھیجنے کے لیے تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ نگرانی، دشمن کی نشاندہی، معلومات اکٹھی کرنے اور ضرورت پڑنے پر فائرنگ جیسے فرائض انجام دے سکے۔

چینی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ روبوٹ ایسے خطرناک مقامات پر ابتدائی جاسوسی کر سکتا ہے جہاں انسانی جانوں کو زیادہ خطرہ لاحق ہو۔ یہ عمارتوں، تنگ گلیوں اور دشوار گزار علاقوں میں داخل ہو کر فوج کو فوری اور اہم معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے فوجیوں کے لیے خطرات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ روبوٹ جدید ڈرونز اور دیگر بغیر پائلٹ جنگی نظاموں کے ساتھ بھی مشترکہ طور پر کام کر سکتا ہے، جس سے مستقبل کی جنگی حکمتِ عملی مزید مؤثر اور خودکار بننے کی توقع ہے۔

دوسری جانب دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہتھیاروں سے لیس روبوٹ مستقبل کی جنگی ٹیکنالوجی کا اہم حصہ بن سکتے ہیں، تاہم ان کے عملی استعمال، قابلِ اعتماد کارکردگی، مصنوعی ذہانت کے کنٹرول اور اخلاقی و قانونی پہلوؤں پر عالمی سطح پر بحث اب بھی جاری ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا