اسرائیل نے مزید 60 فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دیا، جنہیں انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (ICRC) کی نگرانی میں جنوبی غزہ کے شہر خان یونس منتقل کیا گیا، جہاں ان کے اہلِ خانہ جذباتی انداز میں استقبال کے لیے موجود تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق رہا ہونے والے فلسطینیوں کو خان یونس کے ناصر اسپتال پہنچایا گیا، جہاں عزیز و اقارب ان سے ملنے کے لیے جمع تھے۔ رہائی کے بعد کئی مناظر جذباتی تھے، جہاں برسوں بعد خاندانوں کی اپنے پیاروں سے ملاقاتیں ہوئیں۔
آئی سی آر سی نے بتایا کہ اکتوبر 2023 سے اب تک وہ 2,500 سے زائد فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور منتقلی میں سہولت فراہم کر چکی ہے۔ تاہم ادارے نے ایک بار پھر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسے اکتوبر 2023 سے اسرائیلی حراست میں موجود فلسطینی قیدیوں تک براہِ راست رسائی نہیں دی گئی، جس کے باعث ان کی حالت، مقام اور حالاتِ حراست کے بارے میں آزادانہ معلومات دستیاب نہیں۔
دوسری جانب فلسطینی قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس وقت 9,600 سے زائد فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں، جبکہ اکتوبر 2023 سے قبل یہ تعداد تقریباً 5,250 تھی۔ ان تنظیموں کے مطابق حالیہ مہینوں میں گرفتار افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران قیدیوں کی رہائی اور تبادلے کا معاملہ متعدد بار مذاکرات کا حصہ رہا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں تمام فریقین سے بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری اور قیدیوں کے ساتھ انسانی سلوک کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔
