مسلم لیگ ن کے سینیٹر پرویز رشید نے تجویز دی ہے کہ صدر، وزیراعظم، بیوروکریسی اور عدلیہ سمیت حکومت سے تنخواہ لینے والے تمام افراد اپنا علاج سرکاری اسپتالوں میں کروائیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب حکمران اور بااثر طبقہ خود سرکاری اسپتالوں سے علاج کروائے گا تو یہ ادارے بھی بہتر ہوں گے۔ یہ بات اپنی جگہ ایک قابلِ غور اصول ہے، کیونکہ سرکاری اسپتالوں کی بہتری کا سب سے مؤثر دباؤ شاید یہی ہو کہ فیصلہ ساز خود انہی سہولیات کو استعمال کریں۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال ضرور پیدا ہوتا ہے: کیا یہ اصول واقعی سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے، یا سیاسی ضرورت کے مطابق اس کا اطلاق بدل جاتا ہے؟
آج جب عمران خان کے علاج کے معاملے پر سرکاری اسپتال اور نجی اسپتال کی بحث دوبارہ سامنے آئی ہے، پرویز رشید کا یہ بیان مزید سیاسی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ حالیہ معاملے میں سپریم کورٹ نے عمران خان کو طبی معائنے کے لیے نجی اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم بعد میں انہیں پمز لے جایا گیا اور چند گھنٹوں بعد واپس جیل منتقل کر دیا گیا؛ حکومت نے سکیورٹی صورتحال کو وجہ قرار دیا۔
یہاں تنقید عمران خان کے علاج کے حق یا مخالفت سے زیادہ اصول کے دوہرے معیار پر ہونی چاہیے۔
اگر اصول یہ ہے کہ جو شخص ریاست سے تنخواہ لیتا ہے اسے سرکاری اسپتال ہی سے علاج کروانا چاہیے، تو پھر یہ اصول وزیراعظم، صدر، وزراء، ارکان پارلیمنٹ، بیوروکریسی، ججز اور تمام بااثر طبقات پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔ لیکن ماضی میں نواز شریف کے علاج کے معاملے میں بھی شدید بیماری اور بیرونِ ملک علاج کا معاملہ سامنے آیا اور لاہور ہائی کورٹ نے انہیں علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔
یہ بھی درست ہے کہ نواز شریف کو دورانِ قید سرکاری سروسز اسپتال میں طبی سہولیات فراہم کیے جانے کا ریکارڈ موجود ہے۔ اس لیے معاملے کو یک طرفہ سیاسی نعرے کے بجائے اصولی معیار سے دیکھنا چاہیے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر سرکاری اسپتال اتنے قابلِ اعتماد ہیں کہ صدر اور وزیراعظم بھی وہاں علاج کرا سکتے ہیں، تو پھر انہیں ایسا بہترین کیوں نہ بنایا جائے کہ کسی پاکستانی کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو؟
اور اگر کسی مخصوص مریض کو طبی وجوہات، ماہر ڈاکٹر یا کسی ایسی سہولت کی ضرورت ہے جو سرکاری اسپتال میں دستیاب نہیں، تو پھر یہی اصول عمران خان سمیت ہر شہری کے لیے ہونا چاہیے۔
سیاسی وابستگی کے مطابق صحت کا معیار تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ نواز شریف ہوں، عمران خان ہوں یا کوئی عام پاکستانی—بیماری کو سیاسی وفاداری کا پیمانہ نہیں بنایا جا سکتا۔
پرویز رشید کی بات کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس سے سرکاری اسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کی بحث ضرور آگے بڑھ سکتی ہے۔ لیکن اگر یہ بیان صرف موجودہ سیاسی تنازع میں عمران خان کو ہدف بنانے کے لیے استعمال کیا جائے تو پھر عوام کا یہ سوال بالکل جائز ہے کہ اصول آج کیوں یاد آیا، اور جب اپنے قائدین کی باری آتی ہے تو معیار کیوں بدل جاتا ہے؟
حقیقی اصلاح یہ ہوگی کہ حکمران پہلے خود سرکاری اسپتالوں کا معیار بلند کریں، وہاں جدید علاج، ماہر ڈاکٹر، ادویات، تشخیص اور ایمرجنسی سہولیات یقینی بنائیں، پھر بلاامتیاز کہیں:
ریاست کا اسپتال عام آدمی کے لیے بھی وہی ہے اور حکمران کے لیے بھی۔
ورنہ سیاسی بیانات بدلتے رہیں گے، مگر دوہرے معیار کی بیماری ختم نہیں ہوگی۔
