احسن اقبال کے ’’پائیدار ترقی‘‘ کے دعوے، عوام کا سوال: چار سال بعد یہ خواب کیوں؟

0
1

وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے ایک بار پھر پاکستان کو معاشی استحکام سے آگے لے جا کر پائیدار ترقی، برآمدات، سرمایہ کاری، روزگار اور پیداوار بڑھانے کی بات کی ہے۔ انہوں نے نوجوان آبادی، ڈیجیٹل معیشت، معدنی و زرعی وسائل اور پاکستان کے جغرافیائی محلِ وقوع کو ملکی ترقی کی بڑی طاقتیں قرار دیتے ہوئے 2035 تک ایک کھرب ڈالر کی معیشت کا ہدف بھی دہرایا۔

یقیناً پاکستان کو ترقی، روزگار، برآمدات اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، لیکن اصل سوال دعوے کا نہیں، کارکردگی کا ہے۔ عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر موجودہ سیاسی قیادت کو ان تمام مسائل کا ادراک ہے تو گزشتہ برسوں میں ان کے حل کے لیے عملی طور پر کیا تبدیل ہوا؟

حکومت میں رہتے ہوئے اگر عوام مہنگائی، بے روزگاری، بجلی اور گیس کے بھاری بلوں، ٹیکسوں اور کم ہوتی قوتِ خرید سے دوچار رہے، تو پھر انتخابی موسم کے قریب ایک بار پھر بڑے معاشی اہداف، خوشحال مستقبل اور ترقی کے خواب عوام کے سامنے رکھنا فطری طور پر سوالات کو جنم دیتا ہے۔

ایک کھرب ڈالر کی معیشت کا ہدف اپنی جگہ، لیکن عام پاکستانی کا آج کا سوال یہ ہے کہ اس کی آمدنی کب بڑھے گی؟ اس کے بچوں کو معیاری تعلیم کب ملے گی؟ نوجوان کو روزگار کب ملے گا؟ بجلی کا بل اس کی پہنچ میں کب آئے گا اور مہنگائی سے اسے حقیقی ریلیف کب ملے گا؟

احسن اقبال نے درست طور پر انسانی وسائل، تعلیم، ہنر، مصنوعی ذہانت، برآمدات اور پیداواری صلاحیت کی اہمیت اجاگر کی ہے، مگر ان اہداف کے لیے صرف تقاریر اور قومی منصوبے کافی نہیں۔ پالیسیوں کا تسلسل، سیاسی استحکام، شفاف حکمرانی، میرٹ، احتساب، نجی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول اور عام شہری کی قوتِ خرید میں بہتری بھی ضروری ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ترقی کے اعداد و شمار اور عوام کی زندگی میں فرق ختم ہونا چاہیے۔ اگر معیشت کے بڑے اہداف تو حاصل ہوتے دکھائی دیں لیکن عام آدمی دو وقت کی روٹی، علاج، تعلیم اور بجلی کے بل کے درمیان پس رہا ہو تو سوال ضرور اٹھے گا کہ یہ ترقی آخر کس کے لیے ہے؟

انتخابی موسم قریب آتے ہی سیاسی جماعتیں عموماً مستقبل کے روشن خواب دکھاتی ہیں۔ لیکن عوام کو اب خواب نہیں، نتائج چاہییں۔ انہیں ایسے وعدے نہیں چاہییں جن کی مدت صرف انتخابات تک ہو؛ انہیں ایسی معاشی پالیسیاں چاہییں جن کا اثر ان کے گھر کے بجٹ، روزگار، کاروبار اور معیارِ زندگی پر واضح نظر آئے۔

اس لیے احسن اقبال سمیت تمام حکمرانوں سے بنیادی سوال یہی ہونا چاہیے:

اگر پاکستان کے پاس نوجوان افرادی قوت، وسائل، جغرافیائی اہمیت اور بے شمار مواقع موجود ہیں تو پھر اتنے برس گزرنے کے باوجود عام پاکستانی ترقی کے ثمرات سے محروم کیوں ہے؟

اب وقت دعووں سے آگے بڑھنے کا ہے۔ حکومتیں اگر واقعی پائیدار ترقی چاہتی ہیں تو پہلے عوام کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ اس ترقی کا مرکز اقتدار نہیں، عام پاکستانی ہوگا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا