وزارت قربان کرنے کا دعویٰ، مگر عوام سے رویے پر سوال: مصطفیٰ کمال تنقید کی زد میں

0
1

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے لیے وزارت یا عہدہ کوئی معنی نہیں رکھتا، اگر ان کی غلطی ثابت ہوئی تو وہ وزارت قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے پمز واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 80 مریضوں کو اسی فلور سے ریسکیو کیا گیا تھا اور وہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی چاہتے ہیں۔

وزیرِ صحت کا یہ مؤقف اپنی جگہ، لیکن گزشتہ دو روز سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان کی مبینہ ویڈیوز نے ایک بالکل مختلف بحث چھیڑ دی ہے۔ ان ویڈیوز میں عوام اور سوال کرنے والے افراد کے ساتھ ان کے لہجے اور رویے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ وزارت قربان کرنے کی بات اپنی جگہ، لیکن کیا عوامی عہدہ عوام سے سخت یا تحکمانہ رویے کی اجازت بھی دیتا ہے؟

ایک وفاقی وزیر صرف اپنے محکمے کا سربراہ نہیں ہوتا، وہ عوام کا نمائندہ بھی ہوتا ہے۔ اس لیے اس سے اختلاف، تنقید اور مشکل سوالات سننے کا حوصلہ بھی متوقع ہوتا ہے۔ اگر کوئی وزیر اپنے منصب کو قربان کرنے کا اعلان کرے لیکن عوام کے سوالات کا سامنا کرتے ہوئے تحمل کھو بیٹھے تو پھر مسئلہ صرف وزارت کا نہیں بلکہ سیاسی رویے اور عوامی جواب دہی کا بن جاتا ہے۔

خاص طور پر صحت کا شعبہ ایسا شعبہ ہے جہاں عام آدمی پہلے ہی اسپتالوں کی کمی، ادویات کے مسائل، علاج کے اخراجات اور سہولیات کی قلت جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں وزیرِ صحت سے عوام کو صرف بیانات نہیں بلکہ بہتر سہولیات، شفاف تحقیقات اور عملی نتائج کی توقع ہوتی ہے۔

مصطفیٰ کمال کا یہ کہنا کہ اگر قصور ثابت ہوا تو وزارت قربان کردیں گے، سیاسی طور پر ایک مضبوط جملہ ضرور ہے، لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ تحقیقات کتنی شفاف ہوں گی، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کب ہوگی اور مستقبل میں ایسے واقعات روکنے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے جائیں گے؟

اور اگر سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ویڈیوز میں ان کا عوام کے ساتھ رویہ درست طور پر دکھایا گیا ہے تو اس پر بھی وضاحت ضروری ہے۔ عوامی نمائندے کا احتساب صرف مالی یا انتظامی غلطی پر نہیں ہونا چاہیے؛ رویے، برداشت، احترام اور جواب دہی بھی جمہوری سیاست کا حصہ ہیں۔

عوام کو ایسا وزیر نہیں چاہیے جو صرف یہ کہے کہ وہ وزارت قربان کر دے گا۔ عوام یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا وہ اپنی ذمہ داری بھی پوری کرے گا؟

کیونکہ وزارت چھوڑ دینا شاید آسان ہو، لیکن عوام کا اعتماد واپس حاصل کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا