کرپشن، کرپشن، کرپشن… ہر طرف یہی شور ہے، مگر ذرا سوچیے!

0
1

کرپشن کے خلاف کارروائی کی بات ہو رہی ہے، فہرستیں تیار کی جا رہی ہیں، عوام کے ساتھ بدعنوانی کرنے والوں کو پکڑنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ لیکن ایک سوال ایسا بھی ہے جس پر شاید ہی کوئی بات کرنے کو تیار ہو: ان لوگوں کو کون پوچھے گا جو خود پولیس ملازمین، خصوصاً تھانے داروں سے کرپشن کرتے ہیں؟

عام طور پر تھانے دار کو ایک طاقتور شخص سمجھا جاتا ہے، لیکن اس نظام کے اندر جھانکیں تو تصویر کچھ اور دکھائی دیتی ہے۔ ایک تھانے دار کو صرف جرائم پیشہ عناصر، سیاسی دباؤ یا عوامی شکایات کا سامنا نہیں ہوتا بلکہ اسے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ایسے اخراجات اور مبینہ مالی مطالبات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جن کا بوجھ اس کی تنخواہ اور سرکاری وسائل سے پورا ہونا چاہیے۔

سب سے پہلے پراسیکیوشن برانچ کا معاملہ سامنے آتا ہے۔ پولیس حلقوں میں یہ شکایات عام ہیں کہ چالانوں کی منظوری کے نام پر تھانے داروں کو مبینہ طور پر دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شکایت کنندگان کے مطابق لوئر کورٹ کے چالان کے لیے چند سو سے ہزاروں روپے جبکہ سیشن کورٹ کے چالان کے لیے اس سے کہیں زیادہ رقم طلب کیے جانے کی بات کی جاتی ہے۔ اگر یہ الزامات درست ہیں تو سوال یہ ہے کہ اس نظام کی باقاعدہ نگرانی اور احتساب کیوں نہیں ہوتا؟

دور دراز علاقوں میں تعینات پولیس اہلکاروں کے لیے مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ مختلف درخواستوں اور سرکاری معاملات کی منظوری کے لیے انہیں بار بار دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ ہائی کورٹ کے معاملات ہوں، لیبارٹری کے لیے PFSA پارسل جمع کروانا ہو یا دیگر سرکاری کارروائیاں، ہر مرحلے پر وقت کے ساتھ ساتھ جیب پر بھی بوجھ پڑنے کی شکایات سامنے آتی ہیں۔

پھر تھانے کے روزمرہ اخراجات ہیں۔ اسٹیشنری سے لے کر کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، پرنٹر، پنکھے اور بلب تک؛ سائلین کے بیٹھنے کے لیے کرسیاں ہوں یا ریکارڈ محفوظ رکھنے کے لیے الماری، کئی جگہوں پر پولیس افسران کو اپنی جیب سے یہ ضروریات پوری کرنے کی شکایت کی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک تھانے کے بنیادی انتظامی اخراجات بھی افسر اپنی جیب سے پورے کرے گا تو پھر سرکاری بجٹ اور وسائل کہاں خرچ ہو رہے ہیں؟

ملزمان کی گرفتاری اور عدالت یا جیل تک پیشی کے مراحل بھی اپنے ساتھ کئی اخراجات لاتے ہیں۔ ہتھکڑی سے لے کر عدالتی کارروائی، نائب کورٹ کی خدمات، آرڈر ٹائپ کرنے والے کی فیس، عدالتی مہروں، CRO، جیل میں جمع کروانے اور بیمار ملزم کے میڈیکل تک، مختلف مراحل پر مبینہ طور پر اضافی اخراجات برداشت کرنے کی شکایات سامنے آتی ہیں۔ اگر ملزمہ ہو تو اس کے ساتھ لیڈی کانسٹیبل کی ڈیوٹی بھی ایک اضافی انتظام بن جاتی ہے۔

کارکردگی کا دباؤ اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ پولیس افسران پر مقدمات درج کرنے، اشتہاری ملزمان کی کارروائی دکھانے اور مالِ مقدمہ کی برآمدگی سمیت مختلف اہداف پورے کرنے کا دباؤ رہتا ہے۔ بعض اہلکاروں کا دعویٰ ہے کہ جب کارکردگی کا دباؤ بڑھتا ہے تو ایسے اخراجات بھی سامنے آ جاتے ہیں جن کے لیے باقاعدہ سرکاری بجٹ موجود نہیں ہوتا۔ نتیجتاً افسر کو اپنی جیب سے خرچ کرنا پڑتا ہے یا پھر اوپر سے آنے والے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اور اگر کوئی افسر مطلوبہ اخراجات برداشت نہ کر سکے تو اسے شوکاز نوٹس یا وضاحت کے لیے پیش ہونے جیسے مراحل سے گزرنے کی شکایت بھی کی جاتی ہے۔ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کسی پولیس افسر کی کارکردگی کا معیار اس کی اپنی جیب کی طاقت ہونی چاہیے؟

یہ معاملہ صرف روزمرہ اخراجات تک محدود نہیں۔ سالانہ Digital ACR جیسے انتظامی امور، جو متعلقہ افسران کی سرکاری ذمہ داری ہیں، ان کے بارے میں بھی پولیس اہلکاروں کی جانب سے مبینہ طور پر اضافی رقم طلب کیے جانے کی شکایات سننے کو ملتی ہیں۔ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ صرف ایک فرد کی شکایت نہیں بلکہ پورے نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

تھانے دار اس پورے نظام میں ایک طرح سے سینڈوچ بن چکا ہے۔ ایک طرف عوامی دباؤ، دوسری طرف جرائم پیشہ عناصر، اوپر سے افسران کی کارکردگی کا دباؤ اور درمیان میں وہ اخراجات جنہیں پورا کرنے کے لیے نہ مناسب وسائل میسر ہیں اور نہ واضح نظام۔

سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ بہت سے پولیس اہلکار اس صورتحال کو برداشت کرتے رہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر نظام چلانا ہے تو کہیں نہ کہیں سے خرچ پورا کرنا پڑے گا۔ کبھی اپنی جیب سے، کبھی دوستوں سے، کبھی کسی سائل کی مدد سے اور کبھی کسی اور ذریعے سے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی اہلکار اپنی مجبوری میں لوگوں سے چندہ یا مدد مانگتے ہوئے پکڑا جائے تو اس کے خلاف گداگری کا مقدمہ بھی بن سکتا ہے، مگر وہ اصل سوال شاید پھر بھی اپنی جگہ موجود رہتا ہے:

اگر ایک سرکاری ادارے کے اہلکار کو اپنا سرکاری کام انجام دینے کے لیے اپنی جیب سے پیسہ خرچ کرنا پڑے، تو اس نظام کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

کرپشن کے خلاف کارروائی ضرور ہونی چاہیے، لیکن احتساب صرف نچلی سطح کے ملازمین تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ جس طرح عوام سے رشوت لینے والے کا احتساب ضروری ہے، اسی طرح پولیس اہلکار سے مبینہ رشوت یا غیر قانونی رقم لینے والے ہر شخص اور ہر ادارے کا بھی بلاامتیاز احتساب ہونا چاہیے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ان شکایات کو محض الزام سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ ایک غیر جانب دار، شفاف اور باقاعدہ نظام کے تحت تحقیقات کی جائیں۔ اگر الزامات غلط ہیں تو انہیں غلط ثابت کیا جائے، اور اگر درست ہیں تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

کیونکہ کرپشن کا خاتمہ صرف تقریروں، فہرستوں اور نعروں سے نہیں ہوگا۔
کرپشن تب ختم ہوگی جب احتساب کا نظام ہر اس شخص تک پہنچے گا جو اپنے اختیار کو دوسروں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا