کبھی کبھی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی بڑی دولت، طاقت یا وسائل سے نہیں بلکہ یقین، محنت اور والدین کی دعاؤں سے ملتی ہے۔
بنگلہ دیش کے نوجوان حافظِ قرآن نورالدین زکریا کی مکہ مکرمہ سے سامنے آنے والی کامیابی بھی ایسی ہی ایک متاثر کن داستان بن گئی ہے۔
حافظ نورالدین زکریا نے سعودی عرب میں منعقد ہونے والے 46ویں شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی قرآن کریم حفظ، تلاوت اور تفسیر مقابلے کے مردوں کے چوتھے زمرے میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے بنگلہ دیش کا نام دنیا بھر میں روشن کردیا۔
اس عالمی مقابلے میں 133 ممالک کے 334 امیدواروں نے شرکت کی۔ نورالدین زکریا نے ایسے تمام امیدواروں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ان کے زمرے میں قرآن کریم کے مسلسل 15 پارے حفظ کرنے، درست تلاوت اور تجوید میں مہارت کا امتحان لیا گیا۔
نورالدین زکریا کا تعلق بنگلہ دیش کے ضلع پٹوآکھالی کے باؤفل علاقے کے ایک گاؤں سے بتایا جاتا ہے اور وہ ڈھاکہ کے رایحان انٹرنیشنل مدرسہ کے طالب علم ہیں۔
لیکن اس کامیابی کے پیچھے ان کے خاندان کی جدوجہد کی کہانی اس خبر کو مزید جذباتی بنا دیتی ہے۔
مقامی رپورٹس کے مطابق نورالدین کے والد دودھ فروخت کرکے اپنے خاندان کا نظام چلاتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ بیٹے کو سعودی عرب میں قرآن کے اس عظیم مقابلے میں شرکت کے لیے بھیجنے کے اخراجات پورے کرنے کے لیے انہوں نے اپنی گائے تک فروخت کردی۔
یعنی جس گھر میں بیٹے کی ٹکٹ اور سفر کے اخراجات پورے کرنا بھی ایک بڑا چیلنج تھا، اسی گھر کے بیٹے نے مکہ مکرمہ پہنچ کر دنیا کے سامنے اپنے ملک کا نام روشن کردیا۔
اور پھر کامیابی کے بعد انعامات کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔
سعودی عرب کی وزارتِ اسلامی امور کے زیر اہتمام ہونے والے اس مقابلے میں مجموعی طور پر 12 کروڑ 60 لاکھ سعودی ریال کی انعامی رقم رکھی گئی تھی۔ تازہ رپورٹس کے مطابق نورالدین زکریا کو اپنی کیٹیگری میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر 1 لاکھ 50 ہزار سعودی ریال اور اعزازی شیلڈ دی گئی۔
بنگلہ دیش میں بھی ان کی کامیابی کو غیر معمولی اہمیت دی جارہی ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم طارق رحمان نے ملک کا نام روشن کرنے پر نورالدین زکریا کے لیے 2 کروڑ ٹکا انعام کا اعلان کیا، جبکہ اعلیٰ ترین سول اعزاز اور سرکاری ٹیلی ویژن پر تلاوت کے لیے سرکاری ملازمت دینے کا اعلان بھی رپورٹ کیا گیا ہے۔
یوں ایک ایسے نوجوان کی کہانی سامنے آتی ہے جس کے خاندان کے لیے سفر کا خرچ پورا کرنا آسان نہیں تھا، مگر اپنی محنت، قرآن کریم سے وابستگی اور والدین کی قربانیوں کے نتیجے میں وہ دنیا کے ایک بڑے قرآن مقابلے میں اپنے ملک کے لیے اعزاز لے آیا۔
نورالدین زکریا نے اس کامیابی کے ذریعے صرف ایک مقابلہ نہیں جیتا بلکہ بنگلہ دیش کے ان لاکھوں نوجوانوں کے لیے بھی امید اور حوصلے کی مثال قائم کی ہے جو محدود وسائل کے باوجود بڑے خواب دیکھتے ہیں۔
ان کی اپنی ایک گفتگو کے مطابق قرآن نے انہیں ایک چھوٹے سے گاؤں سے اٹھا کر مکہ مکرمہ تک پہنچایا، جہاں مسجد الحرام کے قریب دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے قرآن کے حفاظ اور قراء کے درمیان اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع ملا۔
یہ داستان شاید ہمیں ایک بار پھر یہ یاد دلاتی ہے کہ وسائل کم ہوں تو راستے مشکل ضرور ہوتے ہیں، لیکن محنت، والدین کی قربانی اور اللہ تعالیٰ پر یقین انسان کو وہاں تک پہنچا سکتا ہے جہاں پہنچنے کا شاید اس نے کبھی خواب بھی نہ دیکھا ہو۔
ایک گائے فروخت کرکے بیٹے کا سفر ممکن بنانے والا باپ شاید یہ نہیں جانتا تھا کہ اس قربانی کا صلہ کتنی بڑی خوشی بن کر واپس آئے گا۔
