اسلام آباد کی سرحد یونیورسٹی کے کیمپس میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے نے وفاقی دارالحکومت میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں، جن میں یونیفارم میں ملبوس ایک شخص کو طلبہ کے ساتھ تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کے بعد اسلحہ نکالتے اور ہوائی فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم واقعے کے تمام محرکات اور ذمہ داری کا حتمی تعین تحقیقات کے بعد ہی ہوگا۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق طلبہ ایک یونیورسٹی عہدیدار اور اپنے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر جدون خان سے متعلق انتظامی تنازع اور مبینہ کارروائی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے استاد کے حق میں پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک خاتون یونیورسٹی عہدیدار کے ساتھ تلخ کلامی کے بعد ان کے شوہر، جو فوجی افسر بتائے جا رہے ہیں، یونیورسٹی پہنچے اور صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔
وائرل ویڈیو میں مبینہ طور پر افسر کو طلبہ کے درمیان جاتے، ایک شخص سے الجھتے اور بعد ازاں پستول نکالتے دیکھا جا سکتا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق ہجوم کے ساتھ کشیدگی کے دوران فائرنگ ہوئی اور پولیس اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔ طلبہ نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
واقعے کے بعد سب سے اہم پیش رفت یہ سامنے آئی کہ متعلقہ فوجی افسر کو تحویل میں لے لیا گیا ہے اور فوجی ضابطے کے تحت انکوائری اور تادیبی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔
دوسری جانب طلبہ کی جانب سے پولیس کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ بعض طلبہ کا دعویٰ ہے کہ واقعے کے فوری بعد انہیں مطلوبہ قانونی کارروائی نظر نہیں آئی، تاہم پولیس یا یونیورسٹی کی جانب سے اس حوالے سے مکمل باضابطہ مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق پیر کی شام تک پولیس، سکیورٹی فورسز یا یونیورسٹی کی جانب سے جامع سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔
اب سب سے اہم سوال یہی ہے کہ یونیورسٹی کے اندر فائرنگ کی نوبت کیوں آئی، اسلحہ کیمپس تک کیسے پہنچا، اور کشیدگی کو فائرنگ سے پہلے کیوں نہ روکا جا سکا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات سے ہی سامنے آنا چاہیے۔
سوشل میڈیا پر اسلام آباد میں ہنگامی صورتحال اور اگلے روز کسی بڑے احتجاج کی اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں، لیکن فی الحال ان دعوؤں کو مکمل طور پر درست قرار دینے کے لیے قابلِ اعتماد سرکاری تصدیق موجود نہیں۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ 25 اگست کو اسلام آباد میں کوئی بڑا تصادم یا غیر معمولی صورتحال لازماً پیدا ہونے والی ہے۔
البتہ واقعے کے بعد طلبہ کا غصہ، احتجاج اور سکیورٹی سے متعلق سوالات صورتحال کو حساس ضرور بنا رہے ہیں۔ انتظامیہ کے لیے سب سے اہم چیلنج یہ ہوگا کہ احتجاج کو پرامن رکھنے کے ساتھ ساتھ طلبہ کے تحفظ، شفاف تحقیقات اور قانون کی یکساں عمل داری کو یقینی بنایا جائے۔
اس وقت اصل ضرورت افواہوں کو پھیلانے کی نہیں بلکہ حقائق سامنے لانے کی ہے۔ فائرنگ کیوں ہوئی، کس نے حالات کو یہاں تک پہنچایا اور قانون کے مطابق ذمہ دار کون ہے؟ ان سوالات کے جواب اب تحقیقات سے سامنے آنا باقی ہیں۔
