راولپنڈی کے تحصیل آفس راجہ بازار میں دفتر قانون گو کینٹ کے تالے توڑ کر سرکاری ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل کی کوشش کے معاملے میں محکمہ مال نے انکوائری مکمل کر لی ہے۔ انکوائری رپورٹ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو (اے ڈی سی آر) کیپٹن (ر) طیب سمی خان کو ارسال کر دی گئی ہے، جبکہ واقعے کا مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق دفتر قانون گو کینٹ کے تالے 23 اور 24 جون کی درمیانی شب توڑے گئے، تاہم اس واقعے کی ایف آئی آر تقریباً تین ہفتے بعد 17 جولائی کو درج کی گئی، جس پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ انکوائری کے دوران ایک پٹواری کو مبینہ طور پر ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی گئی، جبکہ اصل حقائق اور ممکنہ کرداروں کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیقات ضروری ہیں۔
تحقیقات کے دوران یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ تحصیل آفس راجہ بازار میں کسی چوکیدار کی تعیناتی نہیں تھی، جسے سرکاری ریکارڈ کی حفاظت کے حوالے سے سنگین غفلت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل بھی دفتر قانون گو تحصیل صدر میں مشکوک سرگرمی رپورٹ ہو چکی تھی۔ یکم جون کو گرداور راشد محمود نے اسسٹنٹ کمشنر کینٹ کو آگاہ کیا تھا کہ 25 مئی کو نامعلوم افراد نے دفتر کے تالے کھولنے کی کوشش کی، تاہم چور کی چابی تالے میں ہی ٹوٹ گئی تھی، جس کے باعث وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔
بعد ازاں 24 جون کو دفتر تحصیل کینٹ نے بھی تحریری طور پر بتایا کہ 23 جون کی شام دفتر کو معمول کے مطابق بند کیا گیا تھا، لیکن اگلی صبح دفتر کے دو تالے غائب پائے گئے، جس سے شبہ مزید گہرا ہو گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق 2 جولائی کو موضع بجنیال کے ایک انتقال کی نقل کا فارم موصول ہوا، حالانکہ متعلقہ انتقال پہلے ہی خارج کیا جا چکا تھا۔ یہ فارم طلحہ اقبال کی جانب سے جمع کرایا گیا، جس کے بعد شبہ ظاہر کیا گیا کہ نامعلوم افراد نے تالے توڑ کر سرکاری ریکارڈ میں مداخلت اور ممکنہ ردوبدل کی کوشش کی۔
ذرائع کے مطابق واقعے کی انکوائری متعلقہ ریونیو افسر چوہدری اسد عرف پپو نے مکمل کر کے اپنی رپورٹ اعلیٰ حکام کو بھجوا دی ہے۔ اب اے ڈی سی آر رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد ذمہ داران کے خلاف مزید قانونی اور محکمانہ کارروائی کا فیصلہ کریں گے۔
