وفاقی وزیر برائے توانائی اویس احمد لغاری نے کہا ہے کہ حکومت دن کے وقت شمسی توانائی اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی اضافی (سرپلس) بجلی عوام کو انتہائی کم نرخ پر فراہم کرنا چاہتی ہے، تاہم بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اس تجویز سے اب تک اتفاق نہیں کر رہا۔
وزیر توانائی نے کہا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ دن کے اوقات میں بچ جانے والی اضافی بجلی صرف 6 روپے فی یونٹ کے حساب سے گھریلو، تجارتی اور صنعتی صارفین کو فراہم کی جائے تاکہ بجلی کا زیادہ سے زیادہ استعمال ہو، قومی گرڈ پر بوجھ متوازن رہے اور عوام کو ریلیف مل سکے۔
اویس لغاری کے مطابق تکنیکی طور پر اس منصوبے میں کوئی بڑی رکاوٹ نہیں، کیونکہ دن کے وقت خاص طور پر شمسی توانائی کی پیداوار بڑھنے سے بجلی کی طلب اور رسد میں فرق پیدا ہو جاتا ہے، جس کے باعث اضافی بجلی دستیاب ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ بجلی کم قیمت پر فروخت کی جائے تو نہ صرف عوام کو فائدہ ہوگا بلکہ بجلی کے ضیاع میں بھی کمی آئے گی۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت اس تجویز پر آئی ایم ایف سے مسلسل بات چیت کر رہی ہے، لیکن مالیاتی پروگرام اور توانائی کے شعبے سے متعلق بعض شرائط کے باعث ابھی تک منظوری نہیں مل سکی۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ایسا قابلِ عمل حل نکالا جائے جس سے عوام کو ریلیف بھی ملے اور توانائی کے شعبے کے مالی معاملات بھی متاثر نہ ہوں۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر اضافی بجلی کم نرخ پر فراہم کرنے کی اجازت مل جاتی ہے تو صنعت، چھوٹے کاروبار اور گھریلو صارفین کو نمایاں مالی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اس سے دن کے اوقات میں بجلی کے استعمال میں اضافہ ہوگا، جبکہ قومی گرڈ کی کارکردگی بھی بہتر ہو سکتی ہے۔
