ایران پر امریکی دباؤ، چین کے ساتھ نیا محاذ کھلنے کا خدشہ

0
1

واشنگٹن/بیجنگ: ایران کے خلاف امریکی معاشی دباؤ میں تیزی نے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ایک نئے تنازعے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی مالی، تجارتی یا لاجسٹک مدد کرنے والے ممالک کو بھی سخت معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ دھمکی چین کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ چین ایران کا ایک اہم تجارتی شراکت دار اور ایرانی تیل کا بڑا خریدار ہے۔ ماضی میں بھی واشنگٹن نے ایران کے تیل کی تجارت میں معاونت کرنے والی چین میں قائم کمپنیوں اور اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔

تازہ صورتحال میں بیجنگ نے امریکی دباؤ کی مخالفت کرتے ہوئے ایران کے معاملے پر سفارتی حل پر زور دیا ہے۔ چین کے لیے مسئلہ صرف ایران کے ساتھ تعلقات کا نہیں بلکہ توانائی کی مسلسل فراہمی اور خطے میں اپنے معاشی مفادات کا بھی ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن ایران کی تیل کی آمدنی اور عالمی تجارتی نیٹ ورک کو محدود کرنے کے لیے مزید سخت اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ امریکی حکمتِ عملی میں ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے تیسرے ممالک یا کمپنیوں پر بھی دباؤ ڈالنے کا امکان موجود ہے، جسے عموماً secondary sanctions کہا جاتا ہے۔

اگر چین کی کمپنیوں یا ایرانی تیل کے بڑے خریداروں کو براہِ راست امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو معاملہ صرف واشنگٹن اور تہران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں، امریکا اور چین، کے درمیان نئی معاشی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔

اس صورتحال کے اثرات عالمی تیل مارکیٹ پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ جاری تنازع اور آبنائے ہرمز میں محدود بحری آمدورفت کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔ 20 اگست کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 94 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی WTI تقریباً 89 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر امریکا چین کے ایرانی تیل کی خریداری کے خلاف مزید سخت اقدامات کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک کے تعلقات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی کی قیمتوں، تجارت اور سپلائی چین پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

یوں ایران کے خلاف امریکی معاشی جنگ اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں اس کا اگلا بڑا محاذ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان بن سکتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا