واشنگٹن: دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکا کے لیے ایک تاریخی مالی سنگِ میل سامنے آیا ہے، جہاں ملک کا مجموعی قومی قرض پہلی مرتبہ 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔
امریکی محکمۂ خزانہ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 18 اگست 2026 تک امریکا کا مجموعی قومی قرض تقریباً 40.047 ٹریلین ڈالر ہو چکا تھا۔ اس میں تقریباً 32.266 ٹریلین ڈالر عوام اور دیگر اداروں کے پاس موجود حکومتی قرض جبکہ 7.782 ٹریلین ڈالر حکومتی اداروں کے درمیان واجب الادا قرض شامل ہے۔
یہ صورتحال اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ امریکا کا قومی قرض گزشتہ ایک دہائی کے دوران تقریباً دوگنا ہو چکا ہے۔ جنوری 2017 میں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی مرتبہ صدر کا عہدہ سنبھالا تو امریکی قرض تقریباً 19.95 ٹریلین ڈالر تھا۔
ماہرین کے مطابق قرض میں اضافے کے پیچھے کئی عوامل ہیں، جن میں کورونا وبا کے دوران بڑے پیمانے پر حکومتی اخراجات، مسلسل بجٹ خسارہ، دفاعی اخراجات، سوشل سکیورٹی اور میڈی کیئر جیسے پروگرامز کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور قرض پر ادا کیا جانے والا بھاری سود شامل ہیں۔
صورتحال کا ایک تشویشناک پہلو یہ بھی ہے کہ قرض پر سود کی ادائیگیاں اب امریکی حکومت کے سب سے بڑے اخراجاتی شعبوں میں شامل ہو چکی ہیں اور سالانہ سود کی لاگت ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
قرض میں تیزی سے اضافے نے امریکا کے مالی مستقبل کے حوالے سے بھی خدشات بڑھا دیے ہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر حکومتی اخراجات اور آمدن کے درمیان فرق کم نہ کیا گیا تو مستقبل میں قرض کا بڑھتا ہوا بوجھ شرحِ سود، کاروباری سرمایہ کاری اور عام صارفین کے قرض لینے کی لاگت پر اثر ڈال سکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ قومی قرض کا یہ ریکارڈ کسی ایک حکومت کا نتیجہ نہیں بلکہ گزشتہ کئی انتظامیہ کے دوران مسلسل بڑھتا رہا ہے۔ تاہم موجودہ رفتار نے ایک مرتبہ پھر واشنگٹن میں بجٹ خسارے، ٹیکس پالیسی اور حکومتی اخراجات پر بحث تیز کر دی ہے۔
امریکا کے لیے اب اصل چیلنج صرف 40 ٹریلین ڈالر کا یہ تاریخی ہندسہ نہیں، بلکہ یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت اس بڑھتے ہوئے قرض کو طویل مدت میں کس طرح سنبھالتی ہے۔
