نابینا مصری نوجوان نے AI سے دنیا دیکھنے والی ایپ بنا دی، ہزاروں افراد مستفید

0
2

قاہرہ: مصنوعی ذہانت نے ایک ایسے مصری نوجوان کو نئی امید دے دی جس نے اپنی بینائی کھونے کے بعد ہمت نہیں ہاری، بلکہ ایسی ٹیکنالوجی تیار کر دی جو اب دنیا بھر میں نابینا افراد کو اپنے اردگرد کی دنیا سمجھنے میں مدد دے رہی ہے۔

20 سالہ مارک مراد نے ScribeMe نامی مصنوعی ذہانت پر مبنی ایپ تیار کی ہے۔ مارک خود بھی نابینا ہیں اور ان کی چھوٹی بہن کیرن بھی کم عمری میں بینائی سے محروم ہو گئی تھیں۔

مارک کو 2018 میں اپنی بینائی کے مسائل کا سامنا شروع ہوا۔ ڈاکٹروں نے بعد میں بتایا کہ وہ ایک نایاب اور لاعلاج optic nerve بیماری کے باعث بالآخر بینائی کھو سکتے ہیں۔ چند برس بعد مارک اور ان کی بہن دونوں مکمل طور پر نابینا ہو گئے۔

بینائی سے محرومی کے بعد مارک کو تعلیم کے دوران خاص طور پر مشکل پیش آئی۔ عام اسکرین ریڈنگ ایپس تحریر تو پڑھ لیتی تھیں، لیکن چارٹس، تصاویر، ڈایاگرامز اور پیچیدہ مساوات کو سمجھانے میں ناکام رہتی تھیں۔

مارک نے مختلف ٹیکنالوجی کمپنیوں سے رابطہ کیا، لیکن جب کوئی مدد نہ ملی تو انہوں نے خود پروگرامنگ سیکھنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے YouTube tutorials کی مدد سے coding سیکھی اور 2023 تک ScribeMe کا ابتدائی ورژن تیار کر لیا۔

یہ ایپ موبائل فون کے کیمرے اور Meta smart glasses کے ذریعے اردگرد کے ماحول کا تجزیہ کرتی ہے اور صارف کو آواز کے ذریعے بتاتی ہے کہ سامنے کیا موجود ہے، چیز کتنی دور ہے اور وہاں کیا ہو رہا ہے۔

مارک کی بہن 16 سالہ کیرن نے حال ہی میں کینیا کے سفاری ٹرپ کے دوران یہ ٹیکنالوجی استعمال کی۔ ایپ نے اسے جانوروں، ان کی حرکت اور فاصلے کے بارے میں مسلسل معلومات فراہم کیں، جس سے اسے ماحول کا تصور کرنے میں مدد ملی۔

ScribeMe اب 140 سے زائد ممالک میں ہزاروں افراد استعمال کر رہے ہیں اور یہ 20 زبانوں کو سپورٹ کرتی ہے، جن میں عربی بھی شامل ہے۔

ایپ نابینا افراد کو کلاس روم تلاش کرنے، دکانیں پہچاننے، لباس منتخب کرنے اور تعلیم حاصل کرنے جیسے روزمرہ کاموں میں بھی مدد فراہم کرتی ہے۔ اسے iPhone اور Android فونز کے علاوہ Meta smart glasses کے ساتھ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کی ایک خاص بات یہ ہے کہ smart glasses کے ذریعے نابینا افراد اپنے ہاتھ آزاد رکھتے ہوئے اردگرد کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں، جو چلنے پھرنے کے دوران خاص طور پر مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

ScribeMe نے 2024 میں Vodafone Egypt AI Assistive Tools Hackathon میں بھی کامیابی حاصل کی، جس کے بعد اس منصوبے کو مزید وسعت دینے میں مدد ملی۔

مارک کی کہانی اس بات کی مثال ہے کہ ایک مشکل ذاتی تجربہ کس طرح ایسی ایجاد کا سبب بن سکتا ہے جو دنیا بھر میں ہزاروں لوگوں کی زندگی آسان بنا دے۔

یہ صرف AI کی کہانی نہیں بلکہ ہمت، جدت اور اس یقین کی کہانی ہے کہ ٹیکنالوجی ان لوگوں کے لیے بھی نئی دنیا کے دروازے کھول سکتی ہے جنہیں زندگی نے سب سے بڑا چیلنج دیا ہو۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا