امریکی افواج کا ذکر ہو تو ٹک ٹاک کیوں روک دیتا ہے؟ پاکستانی صارفین کے لیے بڑا سوال!

0
2

اگر کسی خبر میں امریکی افواج، امریکا کی فوجی کارروائیوں یا خطے میں امریکی موجودگی کا ذکر ہو اور وہ خبر ٹک ٹاک پر بار بار محدود یا ہٹا دی جائے، تو یہ صرف ایک ویڈیو کا مسئلہ نہیں بلکہ آزادیِ اظہار اور پلیٹ فارم کی پالیسیوں پر ایک اہم سوال بن جاتا ہے۔

پاکستان میں لاکھوں لوگ ٹک ٹاک کو خبروں اور عالمی حالات سے باخبر رہنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر صحافتی یا معلوماتی مواد محض حساس سیاسی اور فوجی موضوعات کی وجہ سے محدود ہو رہا ہے تو صارفین یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ اس کے پیچھے اصل پالیسی کیا ہے۔

ٹک ٹاک کے مطابق پلیٹ فارم پر مواد کی نگرانی کے لیے خودکار نظام اور انسانی moderation دونوں استعمال کیے جاتے ہیں، جبکہ کمپنی باقاعدگی سے بڑی تعداد میں ایسی ویڈیوز ہٹانے کی رپورٹس جاری کرتی ہے جنہیں وہ اپنی پالیسیوں کی خلاف ورزی سمجھتی ہے۔

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی خبر میں امریکی فوج، اسرائیل، ایران یا کسی دوسری طاقت کا ذکر ہونا بذاتِ خود اسے قابلِ اعتراض بنا دیتا ہے؟

اگر کوئی مواد محض خبر، تجزیہ یا عوامی معلومات فراہم کر رہا ہے اور اس میں نہ تشدد کی ترغیب ہے، نہ نفرت انگیزی اور نہ ہی کوئی غیر قانونی سرگرمی، تو ایسے مواد کی پابندی کی شفاف وضاحت ہونی چاہیے۔

اور اگر پاکستانی صارفین کو مسلسل یہ محسوس ہو کہ ان کے معلوماتی مواد کے ساتھ غیر مساوی سلوک ہو رہا ہے تو پھر سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا ٹک ٹاک کے خلاف اجتماعی احتجاج یا بائیکاٹ ہی راستہ ہے؟

تاہم بائیکاٹ کا فیصلہ جذبات کے بجائے شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ پہلے یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ مواد واقعی امریکی افواج کے ذکر کی وجہ سے روکا جا رہا ہے یا ٹک ٹاک کے کسی دوسرے ضابطے، خودکار moderation یا غلط فہمی کے باعث۔

ایک بات طے ہے: پاکستانی صارفین کو یہ حق حاصل ہے کہ ان کی معلوماتی اور صحافتی آواز کے ساتھ شفاف اور یکساں سلوک کیا جائے۔

اب سوال عوام سے ہے: اگر کسی پلیٹ فارم پر آپ کو محسوس ہو کہ سیاسی یا جنگی خبروں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک ہو رہا ہے، تو کیا آپ اس پلیٹ فارم کا بائیکاٹ کریں گے یا شفاف جواب کا مطالبہ کریں گے؟

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا