اگر ایک غریب بچی سڑک کنارے غبارے بیچ کر اپنے گھر کا چولہا جلانے کی کوشش کر رہی ہو تو ریاست کی ذمہ داری اسے ہٹانا نہیں، بلکہ اس کے لیے باعزت روزگار اور تحفظ کا راستہ پیدا کرنا ہے۔
اگر واقعی پولیس نے اس بچی کے غبارے چھین کر یا ہوا میں اڑا کر اسے روزگار سے محروم کیا ہے تو یہ محض ایک غبارے کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے انتظامی رویوں پر بڑا سوال ہے۔ کیا شہر کی خوبصورتی اور ترقی کا مطلب یہ ہے کہ غریب کے بچوں کے ہاتھ سے روزی کا معمولی ذریعہ بھی چھین لیا جائے؟
اسلام آباد کی سڑکیں صاف رکھنا اور شہری نظم و ضبط یقینی بنانا اپنی جگہ، لیکن قانون کا نفاذ انسانیت، رحم اور عزتِ نفس کو پامال کیے بغیر بھی کیا جاسکتا ہے۔
ایک طرف بڑے تجاوزات اور بااثر افراد کے معاملات پر سوال اٹھتے ہیں، دوسری طرف ایک غریب بچی کے غبارے انتظامیہ کو اتنے بڑے مسئلے کے طور پر نظر آتے ہیں کہ انہیں بھی برداشت نہیں کیا جاتا۔
یہ واقعہ اگر درست ہے تو متعلقہ حکام کو وضاحت دینی چاہیے کہ بچی کے غبارے کیوں ہٹائے گئے اور کیا اسے متبادل روزگار یا مدد فراہم کی گئی؟
غریب کے خلاف طاقت کا استعمال آسان ہے، اصل امتحان یہ ہے کہ ریاست کمزور کے ساتھ کتنی انسانیت سے پیش آتی ہے۔
