آزاد کشمیر گزشتہ کئی ہفتوں سے سیاسی بحران، احتجاج، دھرنوں اور انتخابی کشمکش کا مرکز بنا رہا۔ ایک طرف عوامی حلقے اپنے مسائل، نمائندگی اور بنیادی سہولیات کے لیے احتجاج کرتے رہے، جبکہ دوسری طرف سیاسی جماعتوں کی توجہ حکومت سازی، عددی اکثریت اور اقتدار کے حصول پر مرکوز دکھائی دی۔ انتخابی عمل بھی احتجاج اور بائیکاٹ کے سائے میں مکمل ہوا؛ بعض حلقوں میں ووٹنگ مؤخر ہوئی اور سیاسی کشیدگی برقرار رہی۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جس عوام کے ووٹ سے حکومتیں بنتی ہیں، کیا اسی عوام کو فیصلہ سازی کے مرکز میں رکھا گیا؟ احتجاج کے دوران حکومت کی جانب سے خوراک، ادویات اور ضروری اشیا کی ترسیل متاثر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس سے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔
اب حکومت سازی کا مرحلہ شروع ہوچکا ہے اور مسلم لیگ ن نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے امیدوار نامزد کیا ہے۔ تاہم یہ انتخاب بھی سیاسی اختلافات سے خالی نہیں؛ پارٹی کے بعض سینئر رہنماؤں نے گیلانی کی نامزدگی پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی سوال ضرور اٹھتا ہے: کیا سیاست کا مقصد صرف حکومت بنانا ہے یا عوام کے مسائل حل کرنا بھی؟
اگر عوام مہنگائی، بے روزگاری، بنیادی سہولیات، روزمرہ اشیا کی دستیابی اور سیاسی نمائندگی کے مسائل سے دوچار ہوں، جبکہ سیاسی قیادت اقتدار کی تقسیم اور عہدوں کے حصول میں مصروف نظر آئے، تو عوام کے اندر سیاسی نظام پر اعتماد کیسے قائم رہے گا؟
آزاد کشمیر کے حالیہ بحران نے یہ حقیقت بھی سامنے رکھی ہے کہ محض حکومت تبدیل کرنے سے مسائل ختم نہیں ہوتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی حکومت احتجاج کرنے والے شہریوں کو مخالف سمجھنے کے بجائے ان کے مطالبات سنے، سیاسی اختلافات کو مذاکرات سے حل کرے اور عوامی وسائل کو سیاسی مفادات کے بجائے عوامی فلاح پر خرچ کرے۔ خود سبکدوش ہونے والے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور بھی آنے والی حکومت کے لیے مذاکرات کو بحران کے حل کا اہم راستہ قرار دے چکے ہیں۔
اصل امتحان اب عہدہ حاصل کرنے کا نہیں، عوام کا اعتماد واپس حاصل کرنے کا ہے۔ اگر نئی حکومت بھی روایتی سیاسی مفادات، اقربا پروری اور اقتدار کی سیاست تک محدود رہی تو چہرے بدلنے کے باوجود عوام کے مسائل وہیں رہیں گے۔
آزاد کشمیر کے عوام کو ایسی حکومت چاہیے جو ان کے درمیان کھڑی ہو، ان کے مسائل سنے اور اقتدار کو مراعات نہیں بلکہ عوامی امانت سمجھے۔
