راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز (GHQ) کے قریب مسلح شخص کی جانب سے داخل ہونے کی مبینہ کوشش اور فائرنگ کا واقعہ ایک بار پھر پاکستان میں سیکیورٹی، قانون کی بالادستی اور بڑھتے ہوئے عدم تحفظ پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ کرنے والے مسلح شخص کو ہلاک کردیا، تاہم کراس فائرنگ کے دوران ایک فوجی جوان شہید جبکہ دو اہلکار زخمی ہوئے، جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔ واقعے کے بعد راولپنڈی کینٹ اور مال روڈ کے اطراف سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت محمد حسین کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق ضلع خیبر سے بتایا گیا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ملزم ایک سیاسی جماعت، پاکستان تحریک انصاف، کا سرگرم کارکن تھا اور اس کے قبضے سے پارٹی پرچم، اسلحہ، گولیاں اور بعض دستاویزات برآمد ہوئی ہیں۔ تاہم اس سیاسی وابستگی اور برآمد شدہ دستاویزات سے متعلق حتمی تصدیق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
لیکن اس واقعے کا سب سے بڑا سوال صرف یہ نہیں کہ حملہ آور کون تھا۔
اصل سوال یہ ہے کہ ایک مسلح شخص حساس ترین فوجی تنصیب کے قریب فائرنگ تک کیسے پہنچا؟
اگر GHQ جیسے انتہائی حساس مقام کے اطراف بھی کوئی مسلح شخص کارروائی کی کوشش کرسکتا ہے تو پھر عام شہری اپنے گھروں، بازاروں، سڑکوں اور بچوں کے مستقبل کے بارے میں کس قدر مطمئن ہوسکتا ہے؟
یہ واقعہ ایک ایسے ملک کی تصویر پیش کرتا ہے جہاں ایک طرف دہشت گردی اور مسلح تشدد کا خطرہ موجود ہے، دوسری طرف عام شہری جرائم، اغوا، قتل اور بچوں کے خلاف خوفناک واقعات سے دوچار ہیں۔
ساحل کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق بچوں کے خلاف جرائم کے 3 ہزار 630 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، یعنی اوسطاً روزانہ 9 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔ لیکن یہ صرف رپورٹ ہونے والے واقعات تھے؛ غیر رپورٹ شدہ واقعات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔
یہ اعداد و شمار ہمیں ایک بنیادی سوال تک لے جاتے ہیں: ریاست کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، لیکن اگر شہری مسلسل خوف میں زندگی گزار رہے ہوں تو پھر ریاستی نظام کی کارکردگی کا جائزہ کون لے گا؟
پاکستانی شہری پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، بجلی اور گیس کے بھاری بلوں، سیاسی کشمکش اور معاشی غیر یقینی سے پریشان ہے۔ اب اگر حساس تنصیبات کے قریب بھی مسلح کارروائیاں ہونے لگیں تو یہ محض ایک سیکیورٹی واقعہ نہیں رہتا، بلکہ ریاستی اداروں کے لیے ایک وارننگ بن جاتا ہے۔
اور یہاں سیاسی جماعتوں کے لیے بھی ایک سخت سوال ہے۔
کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستگی کسی شخص کو قانون سے بالاتر نہیں بناتی۔ اگر تحقیقات میں کسی ملزم کی سیاسی وابستگی ثابت ہوتی ہے تو اس بنیاد پر پوری جماعت کو مجرم قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ ذمہ داری فرد کے جرم کی ہونی چاہیے، اور فیصلہ ثبوت، تحقیقات اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔
لیکن اگر سیاسی نفرت، انتہا پسندی یا مسلسل تصادم اس حد تک پہنچ جائے کہ لوگ ریاستی اداروں یا سیکیورٹی فورسز پر ہتھیار اٹھانے لگیں تو یہ پورے معاشرے کے لیے انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔
ریاست کو بھی اب صرف واقعے کے بعد سیکیورٹی سخت کرنے سے آگے بڑھنا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے انٹیلی جنس، نگرانی، داخلی سیکیورٹی اور سیاسی و سماجی سطح پر کشیدگی کم کرنے کے لیے کیا مستقل اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
ایک سپاہی کی جان کا ضیاع صرف ایک خبر نہیں۔ وہ بھی کسی کا بیٹا، بھائی اور باپ ہوسکتا ہے۔ اسی طرح دہشت، جرم اور تشدد کا شکار ہونے والا عام شہری بھی محض ایک عدد نہیں۔
پاکستان کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں ریاست طاقتور ہو، قانون سب کے لیے برابر ہو، سیاسی اختلاف دشمنی میں تبدیل نہ ہو اور عام شہری خود کو محفوظ محسوس کرے۔
ورنہ سوال بڑھتا جائے گا:
اگر حساس ترین مقامات بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں، اگر بچے بھی محفوظ نہیں، اگر عام شہری بھی خوف میں ہے۔۔۔ تو آخر اس ملک میں محفوظ کون ہے؟
