پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کو خطے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے بھی اس معاہدے پر تشویش کا اظہار سامنے آیا ہے اور اسے اسرائیل کے لیے خطرناک پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ لیکن پاکستان کے عام شہری کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ اسرائیل پریشان ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ اس معاہدے سے پاکستانی عوام کو کیا ملا؟
اگر کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو بلاشبہ یہ ایک اہم دفاعی عزم ہے۔ لیکن ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کا عام شہری مہنگائی، بے روزگاری، بجلی اور گیس کے بھاری بلوں، ٹیکسوں اور معاشی دباؤ سے پریشان ہے، اسے یہ جاننے کا حق ہے کہ بڑے بڑے دفاعی معاہدوں کا اس کی روزمرہ زندگی سے تعلق کیا ہے؟
کیا اس معاہدے کے بعد بجلی سستی ہوگی؟
کیا آٹا، چینی، دالیں اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ میں آئیں گی؟
کیا نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے؟
کیا اسپتالوں، اسکولوں اور عوامی سہولیات کے لیے وسائل میں اضافہ ہوگا؟
یا پھر یہ بھی ایک ایسا معاہدہ ہوگا جس کی گونج عالمی سطح پر تو سنائی دے گی، لیکن اس کے فوائد عام پاکستانی کی زندگی تک نہیں پہنچیں گے؟
پاکستان پہلے ہی دفاعی ضروریات اور قومی سلامتی کے حوالے سے خطے میں ایک اہم کردار رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعلقات بھی طویل عرصے سے موجود ہیں، جبکہ ترکیے کے ساتھ بھی دونوں ممالک کے درمیان قریبی دفاعی اور عسکری تعاون ہے۔ ایسے میں تینوں ممالک کے درمیان مزید دفاعی تعاون کو صرف نعروں اور عالمی ردعمل کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے اس کے قومی مفاد اور عوامی فائدے کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔
حکومت کو یہ وضاحت کرنی چاہیے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کو عملی طور پر کیا حاصل ہوگا؟ کیا اس کے تحت دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی، روزگار، برآمدات یا پاکستان کی معیشت کو کوئی براہ راست فائدہ پہنچے گا؟ کیا پاکستان اپنے دفاعی سازوسامان کی پیداوار اور برآمدات میں سعودی عرب اور ترکیے کے ساتھ مل کر کوئی بڑا منصوبہ شروع کرے گا؟ اگر ایسا ہے تو اس کی تفصیلات عوام کے سامنے کیوں نہیں لائی جاتیں؟
عوام کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ دشمن پریشان ہے یا عالمی طاقتیں اس معاہدے کو کس نظر سے دیکھ رہی ہیں۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی اپنی پریشانیاں کب کم ہوں گی۔
پاکستان کا عام شہری قومی سلامتی کے خلاف نہیں۔ وہ مضبوط دفاع بھی چاہتا ہے اور ملک کو ایک طاقتور ریاست کے طور پر دیکھنا بھی چاہتا ہے۔ لیکن اسی شہری کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ حکومت سے پوچھے کہ دفاعی کامیابیوں کے ساتھ معاشی کامیابی کب آئے گی؟
اگر ملک کی خارجہ پالیسی اور دفاعی معاہدے پاکستان کا عالمی مقام مضبوط کر رہے ہیں تو حکومت کو اس طاقت کو معاشی فائدے میں تبدیل کرنا ہوگا۔ ایسے معاہدے صرف عسکری طاقت کا اظہار نہ بنیں بلکہ پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، تجارت، ٹیکنالوجی، روزگار اور اقتصادی استحکام کے دروازے بھی کھولیں۔
ورنہ عوام کے لیے یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ اسرائیل پریشان ہوا، دنیا نے نوٹس لیا، دفاعی طاقت کا پیغام بھی چلا گیا۔۔۔ مگر مہنگائی سے پریشان پاکستانی کو آخر کیا ملا؟
ریاست کی طاقت کا اصل مقصد صرف یہ ثابت کرنا نہیں کہ دنیا اس سے کتنی خوفزدہ ہے، بلکہ یہ بھی ثابت کرنا ہے کہ اس کے اپنے شہری کتنے محفوظ، خوشحال اور مطمئن ہیں۔
پاکستان کو ایسے ہر دفاعی اور سفارتی معاہدے کا خیرمقدم کرنا چاہیے جو قومی مفاد میں ہو، لیکن حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ قومی مفاد کی تعریف میں عوامی مفاد سب سے اوپر ہو۔
کیونکہ آخر میں تاریخ یہ نہیں پوچھے گی کہ اسرائیل کتنا پریشان ہوا تھا، تاریخ یہ بھی پوچھے گی کہ پاکستانی عوام کی پریشانی کتنی کم ہوئی تھی۔
