کراچی: بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے زیادتی، تشدد اور قتل کے واقعات پر اداکارہ زارا نور عباس نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے موجودہ حالات کو ’’بدترین وقت‘‘ قرار دے دیا۔
زارا نور عباس نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں کہا کہ تشویش صرف اس بات پر نہیں کہ معاشرے میں زیادتی اور قتل کے واقعات مسلسل سامنے آرہے ہیں، بلکہ سب سے زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف ایسی مثال قائم نہیں کی جا رہی جو دوسروں کے لیے واضح عبرت بن سکے۔
اداکارہ کے مطابق جب سنگین جرائم کے بعد مجرموں کو فوری اور مؤثر سزا نہ ملے تو اس کے نتیجے میں جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے مزید بلند ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال اس حد تک سنگین ہوچکی ہے کہ یہ مسئلہ اب کسی ایک طبقے یا جنس تک محدود نہیں رہا۔
زارا نور عباس نے سوال اٹھایا کہ ایسے ماحول میں والدین اپنے بچوں کو آخر کیسے محفوظ رکھیں؟ کیا شہری اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے ہر وقت خوف میں مبتلا رہیں، یا انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ قانون واقعی ان کے ساتھ کھڑا ہے؟
اداکارہ نے قانون کے نفاذ کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر سنگین جرائم کے باوجود مجرموں کے خلاف مؤثر کارروائی نظر نہ آئے تو معاشرے میں قانون پر اعتماد کیسے برقرار رہ سکتا ہے؟
انہوں نے میر رضا علی کیس کا حوالہ بھی دیا، جہاں لاش کی دوبارہ قبر کشائی کے بعد پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ ابتدائی طور پر واقعے کو خودکشی قرار دیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، تاہم بعد کی رپورٹ میں مبینہ طور پر گولی لگنے کے ساتھ تشدد کے شواہد بھی سامنے آئے۔
زارا نور عباس نے کراچی میں ایک کمسن بچی کے ریپ اور قتل کے واقعے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا، جہاں ملزم کی کم عمری کے باعث اسے ذہنی معاونت فراہم کرنے کی بات سامنے آئی۔
ان واقعات کے تناظر میں اداکارہ نے ایک انتہائی اہم سوال اٹھایا کہ اگر بچے گھروں، گلیوں اور معاشرے میں محفوظ نہیں تو والدین آخر کس پر بھروسہ کریں؟
یہ سوال صرف ایک اداکارہ کا نہیں بلکہ ان تمام والدین کا ہے جو اپنے بچوں کو روزانہ اسکول، مدرسے، کھیل کے میدان یا کسی رشتہ دار کے گھر بھیجتے ہوئے اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں ان کے بچے کسی ایسے شخص کا شکار نہ بن جائیں جسے قانون کا خوف ہی نہ ہو۔
بچوں کے خلاف جرائم کسی بھی معاشرے کے لیے سب سے خطرناک الارم ہوتے ہیں۔ اگر ایسے واقعات بار بار سامنے آئیں اور معاشرے میں انصاف، فوری کارروائی اور مؤثر سزا کا احساس کمزور پڑ جائے تو یہ صورتحال محض جرائم کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ ریاستی نظام، قانون کی عملداری اور عوام کے اعتماد کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔
زارا نور عباس کا پیغام دراصل ایک بنیادی سوال سامنے لاتا ہے:
کیا پاکستان میں والدین اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے ریاست کے نظامِ انصاف پر مکمل اعتماد کر سکتے ہیں؟
یہ سوال اب صرف سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع نہیں، بلکہ ہر پاکستانی گھر کی پریشانی بن چکا ہے۔
