سیندک سے سونا اور تانبا نکل رہا ہے، پھر پاکستان مقروض کیوں ہے؟ اربوں ڈالر کے معدنی خزانے کے بیچ عوام ٹیکس، بجلی اور مہنگائی تلے کیوں دبے ہوئے ہیں؟

0
1

بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع سیندک کی کانوں سے متعلق سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز ایک ایسا سوال اٹھاتی ہیں جس کا جواب صرف حکومت نہیں بلکہ ملک کے تمام متعلقہ اداروں کو دینا چاہیے: اگر پاکستان کی زمین سے قیمتی سونا، تانبا اور دیگر معدنیات نکل رہی ہیں تو اس دولت کا حقیقی فائدہ پاکستانی عوام تک کیوں نہیں پہنچ رہا؟

سیندک کو پاکستان کے اہم معدنی منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں سونے اور تانبے کے ذخائر کی کان کنی کئی برس سے جاری ہے۔ تاہم سوشل میڈیا اور مختلف رپورٹس میں روزانہ تقریباً 100 ٹن مائننگ اور سونے و تانبے کی بڑی مقدار نکلنے کے دعوے سامنے آتے رہتے ہیں، جن کی درست مقدار، مالیت اور موجودہ پیداوار کے اعدادوشمار کا شفاف اور آزادانہ آڈٹ ضروری ہے۔

اصل سوال یہی ہے کہ کان سے نکلنے والی معدنی دولت کی مجموعی مالیت کتنی ہے، حکومت کو اس میں سے کتنا حصہ ملتا ہے، بلوچستان کو کتنا ملتا ہے اور قومی خزانے میں حقیقی طور پر کتنی رقم پہنچتی ہے؟

ایک طرف ملک کا عام شہری بجلی کے بل میں ہزاروں روپے کے اضافی چارجز، بھاری ٹیکسوں، پٹرول کی قیمتوں، اشیائے ضروریہ کی مہنگائی اور روزگار کے بحران سے نبرد آزما ہے۔ بہت سے خاندان بنیادی اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہیں، جبکہ معاشی دباؤ کے باعث خودکشیوں کے واقعات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان کے مختلف علاقوں میں زمین کے اندر اربوں ڈالر مالیت کے معدنی وسائل موجود ہونے کی بات کی جاتی ہے۔ سیندک، ریکوڈک اور دیگر معدنی منصوبے اس سوال کو مزید اہم بنا دیتے ہیں کہ قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی دولت کا حصہ عام پاکستانی کی زندگی میں کہاں نظر آتا ہے؟

اگر معدنیات سے اربوں روپے یا ڈالر کی آمدنی پیدا ہو رہی ہے تو پھر عوام کو مسلسل نئے ٹیکسوں کا بوجھ کیوں اٹھانا پڑ رہا ہے؟ بجلی کے بل عام آدمی کی آمدنی کا بڑا حصہ کیوں نگل رہے ہیں؟ حکومت کو بار بار قرضوں کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان کے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کا مکمل حساب عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھا جاتا؟

یہاں سوال صرف حکومت سے نہیں بلکہ متعلقہ نگرانی کرنے والے اداروں، معدنی محکموں، آڈیٹرز اور پارلیمنٹ سے بھی ہے۔

عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ سیندک سے سالانہ کتنی معدنیات نکالی جاتی ہیں، ان کی عالمی مارکیٹ میں مالیت کتنی بنتی ہے، منصوبے کے آپریٹر کو کتنا حاصل ہوتا ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو کتنا ریونیو ملتا ہے، بلوچستان کو اس کا کتنا حصہ ملتا ہے اور اس رقم سے صوبے کے عوام کے لیے کیا ترقیاتی کام کیے گئے؟

اگر یہ اعدادوشمار موجود ہیں تو انہیں عوام کے سامنے رکھنے میں ہچکچاہٹ کیوں؟

پاکستان کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ملک پر قرضہ ہے؛ اصل مسئلہ یہ بھی ہے کہ ایک طرف عوام سے ہر ممکن طریقے سے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کے استعمال، معاہدوں اور تقسیم پر مکمل شفافیت کا سوال مسلسل موجود ہے۔

یہ وقت سیاسی نعروں سے زیادہ حساب کتاب کا ہے۔

عوام کو بتایا جائے کہ پاکستان کی زمین سے نکلنے والے سونے، تانبے اور دیگر معدنی خزانوں سے کون کتنا کما رہا ہے، ریاست کو کتنا مل رہا ہے اور عام پاکستانی کے حصے میں آخر کیا آ رہا ہے؟

کیونکہ اگر ملک معدنی دولت سے مالا مال ہے لیکن اس دولت کے باوجود عوام بجلی کے بل، ٹیکس، مہنگائی اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں تو پھر سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان مقروض کیوں ہے؟

سوال یہ بھی ہے:

پاکستان کی دولت آخر جا کہاں رہی ہے؟

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا