لاہور: ٹاؤن شپ پولیس کی حراست میں دو خواتین کی ہلاکت کا معاملہ سنگین سوالات کو جنم دے رہا ہے، جبکہ پولیس کے پاس جانے سے قبل دونوں خواتین کی ویڈیو بھی سامنے آگئی ہے۔ ویڈیو میں دونوں خواتین ٹاؤن شپ بی بلاک میں علاقہ مکینوں کے ساتھ تکرار کرتی دکھائی دیتی ہیں، جہاں بعض افراد مبینہ واردات میں ہتھیائی گئی رقم کی واپسی کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں۔
ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس کے پہنچنے سے قبل خواتین مبینہ طور پر جائے وقوعہ سے نکلنے کی کوشش کرتی ہیں، جس کے بعد معاملہ پولیس تک پہنچتا ہے۔
لیکن اصل اور سب سے اہم سوال ویڈیو سے آگے شروع ہوتا ہے۔
اگر دونوں خواتین پولیس حراست میں جانے کے بعد ہلاک ہوئیں تو ان کی موت کیسے ہوئی؟
کیا انہیں تھانے لے جایا گیا؟ کس اہلکار نے انہیں حراست میں لیا؟ حراست کے دوران ان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ ان کی جسمانی حالت کیا تھی؟ تھانے پہنچنے اور موت کے درمیان کتنا وقت گزرا؟ کیا تھانے میں موجود سی سی ٹی وی کی مکمل ریکارڈنگ محفوظ کی گئی ہے؟ اور کیا خواتین کے طبی معائنے اور پوسٹ مارٹم کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں گے؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب صرف یہ کہہ دینا نہیں ہوسکتا کہ “انکوائری جاری ہے۔”
پولیس ایک ایسا ادارہ ہے جس کی تحویل میں جانے کے بعد کسی بھی شہری کی جان اور عزت کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص پولیس حراست میں ہلاک ہوجائے تو محض داخلی انکوائری کافی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ شفاف، غیر جانب دار اور قابلِ اعتماد تحقیقات ضروری ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ غفلت، تشدد یا اختیارات کے ناجائز استعمال کو نظرانداز نہ کیا جاسکے۔
پولیس کے مطابق موبائل ویڈیو کو انکوائری کا حصہ بنا لیا گیا ہے اور ضابطہ فوجداری کے تحت تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انکوائری مکمل ہونے پر تمام شواہد سامنے لائے جائیں گے۔
مگر عوام کا سوال سادہ ہے:
اگر خواتین بے گناہ تھیں تو انہیں انصاف کون دے گا؟ اور اگر ان سے کوئی جرم سرزد ہوا تھا تو کیا قانون انہیں عدالت کے ذریعے سزا دینے کے لیے نہیں تھا؟
کسی بھی الزام کی سزا سڑک، تھانے یا پولیس حراست میں نہیں دی جاسکتی۔
دو خواتین کی پولیس حراست میں موت صرف دو افراد کی موت کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ پولیس حراست، قانون کی بالادستی اور شہریوں کے بنیادی حقوق پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ انکوائری واقعی حقائق سامنے لاتی ہے یا یہ معاملہ بھی چند دنوں بعد فائلوں میں دفن ہوجاتا ہے۔
