وفاقی اور سندھ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں دیرینہ مطالبات پر پیش رفت نہ ہونے کے بعد پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے آج، 8 اگست سے ملک گیر غیرمعینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔
صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس ملک شہزاد اعوان کے مطابق جمعے کو وفاقی اور سندھ حکومت کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ رہے، جس کے بعد ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال کا فیصلہ برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔
ان کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے وزیر مواصلات، سیکریٹری مواصلات، چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور آئی جی موٹروے پولیس جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے کمشنر کراچی، سیکریٹری ٹرانسپورٹ، سیکریٹری ایکسائز، ٹریفک پولیس اور ڈرائیونگ لائسنس حکام سمیت متعلقہ افسران مذاکرات میں شریک ہوئے۔
تاہم ٹرانسپورٹرز کا مؤقف ہے کہ متعدد اجلاسوں کے باوجود ان کے بنیادی مطالبات کا قابلِ عمل حل سامنے نہیں آسکا۔
یہ مطالبات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب گڈز ٹرانسپورٹرز پہلے ہی ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ، ٹول ٹیکس، ٹریفک جرمانوں، ودہولڈنگ ٹیکس، موٹروے اخراجات اور دیگر آپریشنل لاگت کو اپنے لیے بڑا مالی دباؤ قرار دے رہے ہیں۔ جولائی میں بھی ملک شہزاد اعوان نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک گیر ہڑتال کی جاسکتی ہے۔
گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا براہِ راست اثر ملک میں اشیائے ضروریہ، صنعتی خام مال، زرعی پیداوار اور دیگر سامان کی ترسیل پر پڑ سکتا ہے۔ طویل ہڑتال کی صورت میں سپلائی چین متاثر ہونے سے کاروباری سرگرمیوں اور مال برداری کے اخراجات پر بھی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب حکومت کے لیے چیلنج یہ ہوگا کہ ٹرانسپورٹرز کے مطالبات اور ملکی معیشت میں سامان کی بلا تعطل ترسیل کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔
یاد رہے کہ دسمبر 2025 میں بھی گڈز ٹرانسپورٹرز نے 10 روزہ ملک گیر ہڑتال کی تھی، جو وفاقی، پنجاب اور سندھ حکومتوں کے ساتھ مذاکرات اور مطالبات پر اتفاق کے بعد ختم ہوئی تھی۔
