ایران نے ایک زیرِ زمین پاسدارانِ انقلاب کی تنصیب میں امریکی اور دیگر فضائی اثاثوں سے منسوب ملبے کی نمائش کرکے اپنی فضائی دفاعی صلاحیت اور جنگ کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں کو نمایاں کیا ہے۔ حالیہ تصاویر اور رپورٹس کے مطابق نمائش میں ایک امریکی F-15E Strike Eagle کے ملبے کے ساتھ مختلف ڈرونز کے تباہ شدہ حصے بھی رکھے گئے ہیں۔
نمائش میں F-15E سے منسوب ایجیکشن سیٹ، طیارے کی کنوپی، دم کا حصہ اور دیگر ملبہ دکھایا گیا ہے۔ یہ وہی F-15E ہے جسے 3 اپریل 2026 کو ایران کے اوپر مار گرائے جانے کی تصدیق امریکی حکام نے بھی کی تھی۔ دونوں امریکی اہلکار طیارے سے بحفاظت باہر نکل گئے تھے اور بعد میں امریکی فورسز نے انہیں بازیاب کرلیا تھا۔
ایرانی حکام کے لیے یہ ملبہ محض تباہ شدہ جنگی طیارے کے حصے نہیں بلکہ ایک علامتی جنگی یادگار کی حیثیت رکھتا ہے۔ زیرِ زمین تنصیب میں اسے دکھا کر ایران یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ جدید ترین امریکی فضائی طاقت بھی اس کی حدود میں مکمل طور پر محفوظ نہیں۔
نمائش میں امریکی ساختہ MQ-1 Predator اور MQ-9 Reaper ڈرونز سے منسوب باقیات بھی شامل کی گئی ہیں۔ امریکی فضائیہ کے حوالے سے رپورٹنگ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے دوران MQ-9 ڈرونز کو متعدد نقصانات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ایرانی بیانیے میں اس نمائش کو قومی مزاحمت اور فضائی دفاع کی کامیابی کے طور پر پیش کیا جارہا ہے، جبکہ آزاد ذرائع کے مطابق F-15E کی تباہی ایک تصدیق شدہ امریکی جنگی نقصان ہے؛ تاہم نمائش میں موجود ہر ملبے کے ٹکڑے کی شناخت اور اسے کس واقعے سے جوڑا جائے، اس کی آزادانہ تصدیق یکساں طور پر دستیاب نہیں۔
یوں ایران نے زیرِ زمین فوجی تنصیب کو ایک ایسی نمائش گاہ میں تبدیل کردیا ہے جہاں امریکی فضائی طاقت کے ملبے کو اپنی دفاعی صلاحیت کی علامت کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ ایرانی عوام کے لیے یہ مناظر جنگ میں مزاحمت اور کامیابی کے جذبات کو تقویت دینے والا پیغام بھی رکھتے ہیں۔
اہم تصحیح: دستیاب شواہد کی بنیاد پر F-15E کو “اسرائیلی طیارہ” کہنا درست نہیں؛ یہ امریکی فضائیہ کا F-15E Strike Eagle تھا۔ اسی طرح نمائش کو ایران کا دعویٰ/بیانیہ اور تصدیق شدہ جنگی نقصانات الگ الگ رکھتے ہوئے رپورٹ کرنا زیادہ منصفانہ ہوگا۔
