فوجی ٹیکنالوجی میں تیزی سے ہونے والی ترقی مستقبل کی جنگوں کا نقشہ بدل رہی ہے۔ امریکی روبوٹکس کمپنی Foundation نے ایک جدید انسان نما (Humanoid) روبوٹ تیار کیا ہے، جو فوجی معاونت کے لیے مختلف اہم کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ روبوٹ امریکی فوجی کی طرح رائفل اٹھا سکتا ہے، تقریباً 6.5 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتا ہے، 20 کلوگرام سے زائد وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور فوجیوں کے کسی عمارت میں داخل ہونے سے قبل اس کی ابتدائی تلاشی بھی لے سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے روبوٹس کو خطرناک فوجی مشنز، بارودی سرنگوں والے علاقوں، شہری جنگ (Urban Warfare)، جاسوسی، نگرانی، رسد کی ترسیل اور زخمی اہلکاروں تک سامان پہنچانے جیسے کاموں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے فوجیوں کی جان کو لاحق خطرات میں نمایاں کمی لانے کی توقع کی جا رہی ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے امریکی بری، بحری اور فضائی افواج کے ساتھ مجموعی طور پر 2 کروڑ 40 لاکھ امریکی ڈالر کے معاہدے کیے ہیں۔ منصوبے کے تحت رواں سال تقریباً 50 روبوٹس تیار کیے جائیں گے، جبکہ اگلے سال پیداوار بڑھا کر 10 ہزار روبوٹس تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ کمپنی نے 2027 کے اختتام تک 50 ہزار انسان نما روبوٹس تیار کرنے کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں پہلے ہی مصنوعی ذہانت (AI)، خودکار ڈرونز اور روبوٹک نظاموں پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ آئندہ برسوں میں جنگی حکمتِ عملی میں انسانوں کے ساتھ ساتھ خودکار مشینوں کا کردار مزید بڑھ جائے گا۔
تاہم ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ خودمختار ہتھیاروں اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے جنگی نظاموں کے استعمال سے اخلاقی، قانونی اور سیکیورٹی سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے رہے ہیں، جن پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔
