یومِ استحصال کشمیر: عالمی برادری کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے لیے کردار ادا کرے، امیر مقام

0
1

وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان، ریاستیں و سرحدی امور انجینئر امیر مقام نے یومِ استحصال کشمیر (5 اگست 2026) کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان غیر قانونی طور پر بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر (IIOJK) کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ یومِ استحصال کشمیر بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو کیے گئے اقدامات کے بعد کشمیری عوام کو درپیش مشکلات اور بنیادی حقوق سے محرومی کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دن عالمی برادری کی اس ذمہ داری کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔

امیر مقام نے کہا کہ گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے کشمیری عوام مشکلات اور پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق شہری آزادیوں پر قدغن، کشمیری قیادت کی گرفتاریاں، طویل حراستیں، اظہارِ رائے اور نقل و حرکت پر پابندیاں، اور خطے کی آبادیاتی و سیاسی صورتحال میں تبدیلی جیسے معاملات تشویش کا باعث ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ تمام مشکلات کے باوجود کشمیری عوام نے اپنی شناخت، ثقافت اور امید کو برقرار رکھا ہے۔ ان کی ثابت قدمی اس بات کا ثبوت ہے کہ دیرپا امن صرف انسانی وقار، مکالمے اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے عالمی سطح پر آواز بلند کرتا رہے گا۔

امیر مقام نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے مسئلہ جموں و کشمیر پر توجہ دے، انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق مسئلے کے منصفانہ اور پرامن حل کی حمایت کرے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا