سپریم کورٹ: صرف اپ گریڈیشن کی بنیاد پر ملازمین کی تنخواہیں نہیں روکی جا سکتیں، 2017 کا عدالتی حکم دوبارہ زیرِ بحث

0
1

سپریم کورٹ آف پاکستان کا 31 جنوری 2017 کا ایک عدالتی حکم دوبارہ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، جس میں بلوچستان کے محکمہ تعلیم کے ملازمین کی اپ گریڈیشن اور تنخواہوں سے متعلق اہم نکات درج ہیں۔

دستاویز کے مطابق عدالت کو بتایا گیا تھا کہ بلوچستان کے بعض علاقوں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے اساتذہ کی تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں۔ عدالت نے صوبائی حکومت سے اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں واضح کیا تھا کہ اگر کوئی ملازم کسی بدعنوانی یا خلافِ قانون اقدام کا مرتکب ثابت نہیں ہوا تو صرف اپ گریڈیشن یا ترقی کے معاملے کی بنیاد پر اس کی تنخواہ نہیں روکی جا سکتی۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر کسی ملازم کے خلاف بلوچستان سول سرونٹس ایکٹ یا متعلقہ قواعد کے تحت کارروائی بنتی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

عدالتی حکم میں چیف سیکریٹری بلوچستان کو ہدایت کی گئی تھی کہ اس معاملے کا جائزہ لیا جائے اور آئندہ سماعت سے قبل عدالت میں رپورٹ پیش کی جائے۔

یہ عدالتی حکم حالیہ دنوں میں ایک بار پھر سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ہے، تاہم یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ 2017 کا عدالتی حکم ہے، نہ کہ کوئی نیا فیصلہ۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا