پنجاب میں تقسیمِ اراضی کے مقدمات میں تاخیر پر سخت کارروائی

0
1

پنجاب میں تقسیمِ اراضی کے مقدمات میں تاخیر پر سخت کارروائی، 60 دن میں فیصلہ نہ کرنے والے ریونیو افسران جواب دہ ہوں گے پنجاب میں زیرِ التواء تقسیمِ اراضی (پارٹیشن) مقدمات کو جلد نمٹانے اور عوام کو بروقت انصاف فراہم کرنے کے لیے بورڈ آف ریونیو پنجاب نے بڑا انتظامی اقدام اٹھایا ہے۔ نئے احکامات کے تحت مقررہ مدت میں فیصلے نہ کرنے والے تحصیلداروں اور نائب تحصیلداروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ بورڈ آف ریونیو کی جانب سے تمام ڈپٹی کمشنرز کو جاری کیے گئے مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ پنجاب لینڈ ریونیو (ترمیمی) ایکٹ 2026 کی دفعہ 142-A پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ نئے قانون کے مطابق ہر پارٹیشن کیس کا فیصلہ درخواست موصول ہونے یا متعلقہ تاریخ سے 60 دن کے اندر کرنا لازمی ہوگا۔ اگر کسی وجہ سے مقررہ مدت میں فیصلہ نہیں ہوتا تو کیس متعلقہ کلکٹر (سب ڈویژن) کو منتقل کر دیا جائے گا۔ کلکٹر اس مقدمے کا فیصلہ 30 دن کے اندر کرنے کے ساتھ ساتھ تاخیر کی وجوہات کا بھی جائزہ لے گا اور اگر غفلت یا غیر ضروری تاخیر ثابت ہوئی تو متعلقہ تحصیلدار یا نائب تحصیلدار کے خلاف Punjab Employees Efficiency, Discipline & Accountability (PEEDA) Act, 2006 کے تحت محکمانہ کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔ بورڈ آف ریونیو نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ مقدمات میں غیر ضروری التوا کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ ضرورت کے مطابق فریقین سے مقررہ اخراجات وصول کیے جا سکیں گے، جبکہ کسی بھی مرحلے پر ایک وقت میں تین دن سے زیادہ کا التوا نہیں دیا جائے گا۔ تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایسے تمام مقدمات کا ریکارڈ فوری طور پر مرتب کریں جن میں مقررہ مدت گزرنے کے باوجود فیصلے نہیں ہو سکے، اور ذمہ دار افسران کی تفصیلات محکمانہ کارروائی کے لیے متعلقہ اتھارٹی کو ارسال کریں۔ بورڈ آف ریونیو کے مطابق یہ احکامات مجاز اتھارٹی کی منظوری سے ٹاپ پرائرٹی کی بنیاد پر جاری کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد زیرِ التواء مقدمات میں کمی، ریونیو نظام میں شفافیت اور جوابدہی کو فروغ دینا، اور شہریوں کو بروقت اور مؤثر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا