صبح کی واک بہتر یا شام کی؟ ماہرین نے صحت مند زندگی کے لیے اہم حقیقت بتا دی

0
2

اگر آپ بھی اس سوچ میں رہتے ہیں کہ صحت کے لیے صبح کی چہل قدمی زیادہ فائدہ مند ہے یا شام کی، تو طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں اوقات کی واک اپنے اپنے فوائد رکھتی ہے، لیکن اصل فرق وقت میں نہیں بلکہ باقاعدگی میں ہے۔

ماہرین کے مطابق روزانہ 30 سے 45 منٹ تیز رفتاری سے چہل قدمی دل کو مضبوط بنانے، وزن کم کرنے، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو متوازن رکھنے، پٹھوں کو طاقت دینے اور ذہنی دباؤ کم کرنے کا ایک مؤثر اور آسان طریقہ ہے۔

صبح کی چہل قدمی کے فوائد

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ صبح کے وقت واک کرنے سے جسم کو قدرتی سورج کی روشنی ملتی ہے، جو جسمانی گھڑی (Body Clock) کو متوازن رکھنے، رات کو بہتر نیند لانے اور وٹامن ڈی کی پیداوار میں مدد دیتی ہے۔

اس کے علاوہ صبح کی واک کے دوران جسم میں ایسے ہارمونز خارج ہوتے ہیں جو خوشی، تازگی اور ذہنی سکون کا احساس بڑھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صبح واک کرنے والے افراد دن بھر زیادہ متحرک، چست اور توجہ کے ساتھ اپنے کام انجام دیتے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق صبح ورزش کرنے والے افراد اپنی عادت کو زیادہ عرصے تک برقرار رکھنے میں بھی کامیاب رہتے ہیں۔

شام کی واک کے فوائد

ماہرین کے مطابق شام کے وقت جسم کا درجہ حرارت نسبتاً زیادہ ہوتا ہے، جس سے پٹھے اور جوڑ زیادہ لچکدار ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت تیز چلنا اور زیادہ دیر تک ورزش کرنا نسبتاً آسان محسوس ہوتا ہے۔

شام کی واک دن بھر کی جسمانی اور ذہنی تھکن دور کرنے، ذہنی دباؤ کم کرنے اور سکون حاصل کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

وزن کم کرنے کے لیے کون سا وقت بہتر ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے کے لیے صبح اور شام دونوں اوقات میں کی جانے والی واک مؤثر ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ متوازن غذا کے ساتھ روزانہ کیلوریز کی مناسب کمی برقرار رکھی جائے۔

اگرچہ بعض لوگ ناشتے سے پہلے واک کو بہتر سمجھتے ہیں کیونکہ اس دوران جسم ذخیرہ شدہ چربی استعمال کر سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں وزن کم ہونے کا انحصار مجموعی خوراک، جسمانی سرگرمی اور مستقل مزاجی پر ہوتا ہے۔

دل اور نیند کے لیے بھی فائدہ مند

باقاعدگی سے چہل قدمی خون کی روانی بہتر بناتی ہے، دل کو مضبوط کرتی ہے، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتی ہے، جبکہ ٹائپ ٹو ذیابیطس، موٹاپے اور دیگر طرزِ زندگی سے جڑی بیماریوں کے خطرات بھی کم کرتی ہے۔

نیند کے حوالے سے بھی صبح اور شام دونوں اوقات فائدہ مند ہیں۔ صبح کی واک جسم کے قدرتی نیند و بیداری کے نظام کو بہتر بناتی ہے، جبکہ شام کی ہلکی رفتار سے واک ذہنی سکون فراہم کر کے اچھی نیند میں مدد دیتی ہے۔ تاہم ماہرین سونے سے کچھ دیر پہلے سخت ورزش سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں۔

ماہرین نے عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی سفارش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر بالغ فرد کو ہفتے میں کم از کم 150 منٹ معتدل جسمانی سرگرمی ضرور کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق صحت مند زندگی کا راز صبح یا شام کے انتخاب میں نہیں بلکہ روزانہ باقاعدگی سے چلنے میں ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا