بلوچستان کے علاقے سورنگ، کوئٹہ کے قریب واقع کوئلے کی کان میں ہونے والے خوفناک میتھین گیس دھماکے نے ایک بڑا انسانی المیہ جنم دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے میں کم از کم 34 کان کن جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ چند مزدوروں کے تاحال ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ حصے میں دھماکے کے وقت تقریباً 36 سے 42 مزدور کام کر رہے تھے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق امدادی ٹیمیں تقریباً 4 ہزار فٹ گہرائی میں انتہائی دشوار حالات میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ملبہ ہٹانے اور پھنسے ہوئے کان کنوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں، تاہم زیرِ زمین آکسیجن کی کمی اور خطرناک حالات کے باعث آپریشن کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
بلوچستان کے وزیر برائے معدنیات شعیب نوشیروانی نے جاں بحق کان کنوں کے لواحقین سے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے مالی امداد کا اعلان کیا ہے، جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات اور کانوں میں حفاظتی اقدامات کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں حفاظتی انتظامات، مناسب وینٹی لیشن اور میتھین گیس کی نگرانی کے مؤثر نظام کی کمی کے باعث اس نوعیت کے حادثات بار بار پیش آتے ہیں، جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔
