امریکی ملٹی نیشنل کمپنی جانسن اینڈ جانسن نے اپنے ٹیلک پر مبنی بیبی پاؤڈر سے متعلق دائر تقریباً 76 ہزار مقدمات نمٹانے کے لیے 5.5 ارب ڈالر کے مجوزہ تصفیے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ یہ مقدمات ان خواتین اور ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے دائر کیے گئے تھے، جن کا دعویٰ تھا کہ کمپنی کے ٹیلک بیبی پاؤڈر کے طویل استعمال سے اوورین (بیضہ دانی) کے کینسر کا خطرہ بڑھا۔
کمپنی کی جانب سے پیش کیا گیا یہ تصفیہ اس شرط سے مشروط ہے کہ کم از کم 95 فیصد دعویداران اس معاہدے کی منظوری دیں۔ اگر مطلوبہ حمایت حاصل ہو جاتی ہے تو یہ معاہدہ حالیہ برسوں کے سب سے بڑے اور طویل قانونی تنازعات میں سے ایک کے خاتمے کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق، متاثرین کو معاوضے کی ادائیگیاں 2027 سے شروع ہونے کی توقع ہے، تاہم عدالتی کارروائی، قانونی منظوری اور دیگر عوامل کے باعث اس شیڈول میں تبدیلی بھی آ سکتی ہے۔
جانسن اینڈ جانسن کو کئی برسوں سے ایسے مقدمات کا سامنا ہے جن میں الزام لگایا گیا کہ اس کے بعض ٹیلک پر مبنی بیبی پاؤڈر میں ایسبیسٹس (Asbestos) جیسے مضر ذرات موجود تھے، جو طویل عرصے تک استعمال کی صورت میں کینسر سمیت سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
تاہم کمپنی مسلسل ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔ جانسن اینڈ جانسن کا کہنا ہے کہ اس کی ٹیلک مصنوعات محفوظ ہیں، ان میں ایسبیسٹس موجود نہیں تھا اور متعدد سائنسی مطالعات بھی ان کی حفاظت کی تائید کرتے ہیں۔ کمپنی کا یہ بھی مؤقف ہے کہ مجوزہ تصفیہ کسی قسم کی غلطی یا قانونی ذمہ داری کا اعتراف نہیں بلکہ برسوں سے جاری مہنگے اور پیچیدہ قانونی تنازع کو ختم کرنے کی ایک کوشش ہے۔
واضح رہے کہ بڑھتے ہوئے قانونی دباؤ اور صارفین کے خدشات کے پیش نظر جانسن اینڈ جانسن نے 2023 میں امریکہ اور کینیڈا میں اپنے ٹیلک پر مبنی بیبی پاؤڈر کی فروخت بند کر دی تھی اور اس کی جگہ کارن اسٹارچ (Cornstarch) پر مبنی متبادل مصنوعات متعارف کرائی تھیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ حتمی منظوری حاصل کر لیتا ہے تو نہ صرف ہزاروں متاثرین کو مالی معاوضہ ملنے کی راہ ہموار ہوگی بلکہ یہ دنیا کی بڑی صارفین اور طبی مصنوعات بنانے والی کمپنیوں میں سے ایک کے لیے برسوں سے جاری قانونی بحران کے خاتمے کی جانب بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
