کشمیر کی عوام سڑکوں پر، حکومت انتخابات میں مصروف؛ اضافی پولیس نفری پر نئے سوالات

0
1

آزاد جموں و کشمیر میں ایک جانب عوام مختلف مسائل پر سراپا احتجاج ہے جبکہ دوسری جانب حکومت قانون ساز اسمبلی انتخابات 2026 کی تیاریوں میں مصروف دکھائی دے رہی ہے۔ انتخابات کے لیے وفاقی وزارتِ داخلہ سے 16 ہزار 800 سے زائد اضافی پولیس اہلکار طلب کیے جانے کے فیصلے نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

حکومتی مؤقف کے مطابق یہ نفری پرامن، شفاف اور محفوظ انتخابات کے انعقاد، حساس پولنگ اسٹیشنز کی سیکیورٹی اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے طلب کی گئی ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب مختلف علاقوں میں عوام احتجاج کر رہی ہے، اتنی بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ حکومت انتخابی عمل کے ساتھ ساتھ احتجاجی مظاہروں کو بھی سختی سے کنٹرول کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

دستاویزات کے مطابق پنجاب سے 14 ہزار، سندھ سے 2 ہزار، خیبر پختونخوا سے 500، بلوچستان سے 200 اور گلگت بلتستان سے 100 اہلکار طلب کیے گئے ہیں، جنہیں مرحلہ وار مختلف اضلاع اور حساس مقامات پر تعینات کیا جائے گا۔

اپوزیشن اور بعض سماجی حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ حکومت عوامی مطالبات اور احتجاج کا سیاسی حل نکالنے کے بجائے سیکیورٹی انتظامات پر زیادہ توجہ کیوں دے رہی ہے۔ دوسری جانب حکومتی حکام کا اصرار ہے کہ اضافی نفری کا مقصد صرف انتخابی عمل کو محفوظ بنانا اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنا ہے۔

اس انداز میں خبر تنقیدی بھی رہتی ہے اور غیر ثابت شدہ الزام کو بطور حقیقت پیش کرنے سے بھی گریز کیا جاتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا