بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی، طلبہ تحریک کے دباؤ پر مودی حکومت کا بڑا فیصلہ

0
2

بھارت کے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جسے وزیراعظم نریندر مودی نے منظور کر لیا۔ استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے امتحانی بے ضابطگیوں، مبینہ پیپر لیکس اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبات پر جاری احتجاج کئی ہفتوں سے شدت اختیار کیے ہوئے تھا۔

رپورٹس کے مطابق طلبہ تحریک نے حکومت پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا اور مظاہرین کا بنیادی مطالبہ وزیر تعلیم کے استعفے کے ساتھ شفاف تحقیقات اور تعلیمی نظام میں اصلاحات تھا۔ احتجاج کے دوران مختلف شہروں میں ریلیاں، دھرنے اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے واقعات بھی سامنے آئے، جس کے بعد حکومت کو شدید سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

اپنے استعفے میں دھرمیندر پردھان نے کہا کہ انہوں نے پورے معاملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے یہ فیصلہ طلبہ کے مستقبل اور تعلیمی نظام پر مزید منفی اثرات سے بچنے کے لیے کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ اس بحران کے دوران انہوں نے اپنی ذمہ داریوں سے کبھی پیچھے ہٹنے کی کوشش نہیں کی۔

استعفے کے اعلان کے بعد نئی دہلی سمیت مختلف مقامات پر احتجاج کرنے والے طلبہ نے خوشی کا اظہار کیا، تاہم تحریک کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ ان کے مطالبات صرف وزیر کے استعفے تک محدود نہیں بلکہ امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور وسیع تعلیمی اصلاحات بھی ان کے ایجنڈے کا حصہ ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ نریندر مودی حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ حالیہ طلبہ تحریک نے نوجوانوں کے مسائل، بے روزگاری اور تعلیمی بحران کو قومی سطح پر ایک بڑی سیاسی بحث میں تبدیل کر دیا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا