برطانوی گلوکارہ بونی ٹائلر (اصل نام: گینر سلیوان) کی آخری رسومات کی تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں، جن میں مداحوں کو بھی ان کی آخری الوداعی تقریب میں شرکت کا موقع دیا جائے گا۔
75 سالہ عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ 8 جولائی کو پرتگال کے ایک اسپتال میں دورانِ علاج انتقال کر گئی تھیں۔ اہلِ خانہ نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بیماری کے باعث زیرِ علاج تھیں اور اچانک دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
خاندانی اعلان کے مطابق 15 اگست کو ان کا تابوت دوپہر ساڑھے تین بجے ان کے پسندیدہ علاقے ممبلز لایا جائے گا۔ اس موقع پر مداحوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سڑکوں کے کنارے کھڑے ہو کر اپنی محبوب گلوکارہ کو آخری خراجِ عقیدت پیش کریں۔
17 اگست کو سوانزی منسٹر (سینٹ میری چرچ) میں ان کی یاد میں عوامی تعزیتی تقریب منعقد ہوگی، جس کے دروازے صبح 11 بجے کھولے جائیں گے جبکہ تقریب دوپہر 12 بجے شروع ہوگی۔
اگرچہ چرچ کے اندر نشستوں میں ترجیح اہلِ خانہ اور خصوصی مہمانوں کو دی جائے گی، تاہم محدود تعداد میں عام مداحوں کے لیے بھی نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ جن افراد کو اندر جگہ نہیں مل سکے گی، وہ چرچ کے باہر بڑی اسکرینوں پر تقریب براہِ راست دیکھ سکیں گے، جبکہ دنیا بھر کے مداح یہ تقریب گلوکارہ کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی لائیو دیکھ سکیں گے۔
تقریب کے بعد جنازے کا قافلہ دوپہر ایک بجے کے قریب سوانزی سے روانہ ہوگا اور ان کے آبائی علاقے اسکیوین پہنچے گا، جہاں سے آگے کی تدفین کی کارروائی خاندانی طور پر نجی رکھی گئی ہے۔
اہلِ خانہ نے لوگوں سے پھول لانے کے بجائے ان دو فلاحی اداروں کو عطیات دینے کی اپیل کی ہے جن کی سرپرستی بونی ٹائلر کرتی تھیں، جن میں Noah’s Ark Children’s Hospital for Wales اور Cerebral Palsy Cymru شامل ہیں۔
یاد رہے کہ بونی ٹائلر مئی میں پرتگال میں ہنگامی سرجری کے بعد شدید علیل ہو گئی تھیں۔ وہ کچھ عرصہ مصنوعی کوما میں بھی رہیں، تاہم صحت بہتر نہ ہونے کے باعث ان کے تمام موسمِ گرما کے میوزیکل شوز منسوخ کر دیے گئے تھے۔
بونی ٹائلر نے “Total Eclipse of the Heart” جیسے لازوال گیت سے عالمی شہرت حاصل کی اور وہ پہلی ویلش گلوکارہ بنیں جن کا گانا امریکی میوزک چارٹس میں نمبر ون پر پہنچا۔ ان کے انتقال پر دنیا بھر سے مداحوں، فنکاروں اور معروف شخصیات نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
