پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے آزاد کشمیر میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) کو انتخابات میں کامیابی ملی تو آزاد کشمیر میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جائے گا اور تمام ادھورے منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔
مظفرآباد میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ انہیں آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے عوام سے خصوصی محبت ہے اور وہ آزاد کشمیر کو ہمیشہ پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح اہمیت دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں خطے کے بنیادی ڈھانچے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی، جس کی وجہ سے عوام آج بھی ترقیاتی سہولتوں سے محروم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپنے دورِ حکومت میں انہوں نے مانسہرہ سے مظفرآباد اور مظفرآباد سے میرپور تک دریائے جہلم کے ساتھ موٹروے بنانے کا منصوبہ منظور کیا تھا، جو مکمل ہو جاتا تو خطے میں معاشی سرگرمیوں، سیاحت اور روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہوتے۔
نواز شریف نے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تو وہ وزیراعظم شہباز شریف سے کہیں گے کہ انہیں آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا دیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان کی خواہش کا مقصد عوام کی خدمت اور ترقیاتی منصوبوں کی براہِ راست نگرانی کرنا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اگر وہ اس منصب پر نہ بھی آئے تو بھی ہر تین ماہ بعد مظفرآباد، راولاکوٹ اور دیگر شہروں کا دورہ کریں گے اور خود جائزہ لیں گے کہ انتخابی منشور پر کس حد تک عملدرآمد ہو رہا ہے۔ ان کے بقول وہ وزیراعظم شہباز شریف کو بھی ان دوروں میں ساتھ لائیں گے تاکہ ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کو یقینی بنایا جا سکے۔
سابق وزیراعظم نے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے لیے 10 گرین الیکٹرک بسیں جلد مظفرآباد پہنچ جائیں گی، جبکہ 15 موبائل اسپتال بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ عوام کو بہتر سفری اور طبی سہولیات میسر آ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو جدید سڑکیں، معیاری اسپتال، تعلیمی ادارے اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرنا مسلم لیگ (ن) کی ترجیح ہوگی۔ نواز شریف نے الزام عائد کیا کہ ان کے بعد آنے والی حکومتوں نے ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے کے بجائے قیمتی وقت ضائع کیا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں مظفرآباد اور آزاد کشمیر کے دیگر شہر ترقی، خوشحالی اور بنیادی سہولیات کے لحاظ سے ملک کے بڑے شہروں کے شانہ بشانہ بلکہ ان سے بھی آگے ہوں گے۔
