“گوری ہندو نہیں ہیں”؛ تیسری شادی پر تنقید کے بعد عامر خان نے خاموشی توڑ دی
بالی ووڈ کے معروف اداکار عامر خان نے اپنی تیسری شادی پر ہونے والی تنقید کے بعد پہلی بار اپنی اہلیہ گوری سپراٹ کے مذہب اور اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات پر کھل کر مؤقف پیش کیا ہے۔
عامر خان اور گوری سپراٹ کی شادی کے بعد بھارت میں مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا، جہاں بعض افراد نے ان پر “لو جہاد” جیسے الزامات عائد کیے، جبکہ کچھ مذہبی شخصیات نے شادی پر اعتراض بھی کیا۔
ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے عامر خان نے واضح کیا کہ ان کے خلاف چلائی جانے والی مہم بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اہلیہ گوری سپراٹ ہندو نہیں بلکہ ایک عیسائی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا پروپیگنڈا حقیقت کے برعکس ہے۔
اداکار نے کہا کہ ان کا خاندان ہمیشہ سے سیکولر اور وسیع النظر روایات کا حامل رہا ہے، جہاں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو عزت اور احترام کے ساتھ قبول کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی دونوں بہنوں نے ہندو مردوں سے شادیاں کیں، لیکن خاندان میں کبھی کسی پر مذہب تبدیل کرنے یا کسی مخصوص عقیدے کو اپنانے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا گیا۔
عامر خان نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں تین شادیاں کیں، مگر تینوں مواقع پر کسی بھی خاتون کا مذہب تبدیل نہیں کروایا۔ ان کے مطابق ان کی ذاتی زندگی کو مذہبی یا سیاسی رنگ دینا درست نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی حقیقت ہے۔
دوسری جانب مسلم پرسنل دارالافتاء کے شاہی چیف مفتی مولانا ابراہیم حسین نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ گوری سپراٹ مسلمان نہیں، اس لیے یہ شادی اسلامی شریعت کے مطابق نہیں۔
اس سے قبل بعض انتہا پسند ہندو تنظیموں نے بھی عامر خان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ جان بوجھ کر ہندو خاندانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین سے شادیاں کر رہے ہیں، تاہم اداکار نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا۔