سانگھڑ میں پاکستان کی توانائی کے شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے بوبی آئل فیلڈ میں نئے ترقیاتی کنویں بوبی-11 کی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کنویں سے تقریباً ایک ہزار بیرل یومیہ تیل حاصل ہوا ہے جبکہ کنویں سے تقریباً ایک ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ یومیہ قدرتی گیس کی پیداوار متوقع ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اپنی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے مقامی تیل و گیس کے ذخائر سے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
او جی ڈی سی ایل کے مطابق بوبی-11 کی کامیابی بوبی آئل فیلڈ میں جاری تلاش اور ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کامیابی سے اس علاقے میں مزید ہائیڈروکاربن ذخائر کی موجودگی کے امکانات پر اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے اور مستقبل میں اضافی کنوؤں کی کھدائی اور نئے ذخائر کی تلاش کے لیے بھی مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
بوبی آئل فیلڈ کی موجودہ کامیابی کو سمجھنے کے لیے جون 2026 میں ہونے والی بوبی ڈیپ-1 کی دریافت بھی اہم ہے۔ او جی ڈی سی ایل نے بوبی اور دھمرکی مائننگ لیز میں بوبی ڈیپ-1 سے تیل کی اہم دریافت کا اعلان کیا تھا۔ کمپنی کے مطابق اس کنویں کی جانچ کے دوران تقریباً 2 ہزار بیرل یومیہ تیل اور 1.1 ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ یومیہ گیس پیدا ہوئی تھی۔ یہ دریافت اس علاقے میں لوئر گورو فارمیشن کے میسیو سینڈ پلے سے پہلی ہائیڈروکاربن دریافت قرار دی گئی تھی، جس نے اردگرد کے ممکنہ ذخائر کے لیے بھی نئی امید پیدا کی۔
بوبی-11 کی کامیابی میں بوبی ڈیپ-1 سے حاصل ہونے والی زیرِ زمین معلومات نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ماہرین کی جانب سے پہلے کنویں سے حاصل ہونے والے ارضیاتی اور زیرِ زمین ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے مزید موزوں مقام پر ترقیاتی سرگرمی آگے بڑھائی گئی، جس کے نتیجے میں بوبی-11 سے تیل اور گیس کے حصول کی راہ ہموار ہوئی۔ اس طرح ایک کامیاب دریافت کے بعد اسی علاقے میں مزید امکانات کو جانچنے کی حکمت عملی نے مقامی پیداوار بڑھانے کے امکانات کو مزید تقویت دی ہے۔
او جی ڈی سی ایل کے مطابق کمپنی جدید ٹیکنالوجی، جدید ارضیاتی و جیو فزیکل تکنیکوں اور اپنے ماہرین کی فنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے نہ صرف نئے ذخائر تلاش کر رہی ہے بلکہ پہلے سے موجود اثاثوں سے بھی اضافی پیداوار حاصل کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔ کمپنی کی مجموعی حکمت عملی میں نئے ذخائر کی تلاش، موجودہ فیلڈز کی بہتر کارکردگی اور پیداوار میں اضافے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شامل ہے۔ او جی ڈی سی ایل ملک کی سب سے بڑی ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیوں میں شامل ہے اور کمپنی کے مطابق ملکی تیل کی پیداوار میں اس کا حصہ تقریباً 49 فیصد جبکہ گیس کی پیداوار میں تقریباً 28 فیصد ہے۔
بوبی-11 سے متوقع تقریباً ایک ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس اگر تجارتی بنیادوں پر پیداوار کے نظام میں شامل ہوتی ہے تو اس سے مقامی گیس سپلائی میں معمولی مگر اہم اضافہ ہوگا، جبکہ تقریباً ایک ہزار بیرل یومیہ تیل کی پیداوار بھی ملکی خام تیل کی پیداوار میں اضافہ کرے گی۔ مقامی سطح پر اضافی پیداوار کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ملک کو توانائی کی مجموعی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی تیل و گیس پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
پاکستان میں توانائی کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مقامی گیس اور تیل کے ذخائر میں کمی کے باعث درآمدی توانائی پر انحصار ایک بڑا معاشی چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے میں ملک کے مختلف حصوں، خصوصاً سندھ اور خیبر پختونخوا کے تیل و گیس کے ممکنہ علاقوں میں نئی دریافتیں نہ صرف توانائی کے شعبے بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی اہم سمجھی جاتی ہیں۔
او جی ڈی سی ایل کی جانب سے بوبی آئل فیلڈ میں ہونے والی مسلسل پیش رفت اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ ایک کامیاب دریافت نے اسی علاقے میں مزید ایکسپلوریشن کے امکانات پیدا کیے ہیں۔ کمپنی پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ بوبی ڈیپ-1 کی دریافت نے اردگرد کے مماثل ممکنہ ذخائر کے خطرات کم کیے اور مستقبل کی تلاش کے لیے نئے راستے کھولے ہیں۔
یوں بوبی-11 کی کامیابی محض ایک نئے کنویں سے تیل اور گیس کے حصول تک محدود نہیں بلکہ اسے ایک وسیع تر ایکسپلوریشن حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر بوبی آئل فیلڈ اور اس کے آس پاس مزید کامیاب کنویں سامنے آتے ہیں تو مستقبل میں اس علاقے سے ملکی تیل و گیس کی پیداوار میں مزید اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔
او جی ڈی سی ایل کی حالیہ سرگرمیاں بھی اسی سمت کی نشاندہی کرتی ہیں۔ کمپنی نے 2026 کے دوران مختلف علاقوں میں نئی دریافتوں، موجودہ فیلڈز کی پیداوار بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کا مقصد موجودہ اثاثوں کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے ملکی توانائی کی ضروریات میں اپنا حصہ مزید بڑھانا ہے۔
بوبی-11 کی کامیابی کے بعد اب توجہ اس بات پر ہوگی کہ کنویں سے حاصل ہونے والی پیداوار کو کس رفتار سے باقاعدہ پیداواری نظام میں شامل کیا جاتا ہے اور بوبی آئل فیلڈ میں مزید کنوؤں کی کھدائی اور تلاش کے نتیجے میں مستقبل میں کتنے اضافی ذخائر سامنے آتے ہیں۔ مجموعی طور پر سانگھڑ میں ہونے والی یہ پیش رفت پاکستان کے مقامی تیل و گیس کے وسائل کو مزید بروئے کار لانے کی کوششوں میں ایک اہم اضافہ ہے۔
