بلوچستان میں فوجی قافلے پر حملہ، شدید فائرنگ، BLA کا 16 اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ

0
3

بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے ایک اہم اور تشویشناک پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں بلوچ لبریشن آرمی، یعنی BLA نے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے ایک فوجی قافلے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے متعدد اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق حملہ بلوچستان کے علاقے زیارت کراس کے قریب فوجی قافلے کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جس کے بعد حملہ آوروں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ BLA سے منسوب بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملے کے دوران فوجی قافلے کی متعدد گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا اور 16 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ تاہم اس جانی نقصان کی آزادانہ یا سرکاری طور پر مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

تازہ اطلاعات کے مطابق BLA نے بلوچستان کے زیارت اور سوراب کے علاقوں میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے والے دو الگ حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔ گروپ نے ان حملوں میں مجموعی طور پر 25 فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے، تاہم مختلف رپورٹس میں ہلاکتوں کے اعداد و شمار میں فرق پایا جاتا ہے، اس لیے حتمی تعداد کے بارے میں احتیاط ضروری ہے۔

یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ گزشتہ ہفتوں کے دوران صوبے کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز نے متعدد کارروائیوں میں عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے اور ان کے ٹھکانوں سے اسلحہ و بارودی مواد برآمد کرنے کی اطلاعات دی ہیں۔

بلوچستان میں گزشتہ کئی ماہ سے سیکیورٹی فورسز اور علیحدگی پسند عسکریت پسند گروہوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ BLA ماضی میں بھی فوجی قافلوں، سیکیورٹی تنصیبات اور دیگر ریاستی اہداف پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے۔ پاکستانی ریاست BLA کو کالعدم عسکریت پسند تنظیم قرار دیتی ہے اور بلوچستان میں اس کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہی ہے۔

حالیہ حملے نے ایک بار پھر بلوچستان میں سیکیورٹی چیلنجز کو نمایاں کر دیا ہے۔ فوجی قافلوں پر گھات لگا کر کیے جانے والے حملے سیکیورٹی فورسز کے لیے ایک سنگین خطرہ تصور کیے جاتے ہیں، کیونکہ ان میں سڑکوں پر نقل و حرکت کرنے والے اہلکاروں کو اچانک نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس کے بعد طویل فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوسکتا ہے۔

حکام کی جانب سے واقعے کی مکمل تفصیلات، ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد سامنے آنے کے بعد ہی صورتِ حال مزید واضح ہوگی۔ فی الحال 16 اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ BLA کی جانب سے سامنے آیا ہے، جس کی سرکاری تصدیق کا انتظار ہے۔

بلوچستان میں حالیہ واقعات کے تناظر میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مزید کارروائیوں کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ حکام ماضی میں واضح کر چکے ہیں کہ دہشت گردی اور عسکریت پسند گروہوں کے خلاف آپریشنز جاری رکھے جائیں گے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا