راولپنڈی میں پولیس افسر شہید، لاہور میں نوجوان کی موت؛ قانون کے محافظ اور شہری دونوں سوالوں کی زد میں

0
1

راولپنڈی اور لاہور میں سامنے آنے والے دو الگ واقعات نے ایک بار پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری، قربانی اور اختیارات کے استعمال پر اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ راولپنڈی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کے دوران سی سی ڈی کے سب انسپکٹر عدنان غیور شہید ہوگئے، جبکہ لاہور میں ٹریفک وارڈن کی جانب سے موٹر سائیکل سوار کو روکنے کی کوشش کے دوران زخمی ہونے والا نوجوان زین پانچ روز تک ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد دم توڑ گیا۔ دونوں واقعات کی نوعیت مختلف ہے، لیکن دونوں میں ایک انسانی جان گئی اور دونوں واقعات پولیس کے کردار کے حوالے سے عوامی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

راولپنڈی میں پولیس کے مطابق سی سی ڈی کے سب انسپکٹر عدنان غیور ایک خطرناک مطلوب اشتہاری ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی کر رہے تھے۔ تھانہ چکلالہ کی حدود میں ملزم نے مبینہ طور پر پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں عدنان غیور کے سر میں گولی لگی اور وہ شہید ہوگئے۔ بعد ازاں پولیس کے مطابق تعاقب جاری رکھتے ہوئے ڈھوک چوہدریاں کے علاقے میں اسی ملزم عمر خان عرف شینا کے ساتھ دوبارہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں ملزم بھی مارا گیا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے جس میں شہید افسر کو مبینہ طور پر ملزم کا مقابلہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

سب انسپکٹر عدنان غیور کی شہادت اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جرائم کے خلاف جنگ صرف نعروں اور پریس کانفرنسوں سے نہیں لڑی جاتی، بلکہ پولیس اہلکار اپنی جانیں داؤ پر لگا کر خطرناک مجرموں کا سامنا کرتے ہیں۔ پنجاب پولیس کے مطابق آئی جی پنجاب نے شہید افسر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اہل خانہ کی دیکھ بھال اور فلاح و بہبود یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

لیکن اسی صوبے کے دوسرے بڑے شہر لاہور سے آنے والا واقعہ ایک مختلف اور انتہائی تکلیف دہ سوال اٹھاتا ہے۔ شادمان میں 26 اگست کو محمد زین موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ ٹریفک وارڈن نے اسے روکنے کی کوشش کی۔ سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق وارڈن اچانک موٹر سائیکل کے راستے میں آیا، جس کے بعد ٹکر ہوئی، زین بے قابو ہو کر گرا اور اس کے سر پر شدید چوٹ آئی۔ وہ پانچ روز تک سروسز ہسپتال میں زیر علاج رہا، مگر جانبر نہ ہو سکا۔

زین کے اہل خانہ نے واقعے پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے انصاف اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اہل خانہ کی جانب سے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کو درخواست بھی دی گئی، جبکہ بعض رپورٹس میں خاندان کی جانب سے یہ الزام سامنے آیا کہ زین ہی کے خلاف اوور اسپیڈنگ کا مقدمہ درج کیا گیا۔ دوسری جانب ٹریفک پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وارڈن سلطان الحق کو مبینہ غفلت اور لاپرواہی پر معطل کر دیا ہے۔

یہاں اصل سوال کسی ایک اہلکار کو مجرم قرار دینا نہیں بلکہ یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو قانون کے نفاذ کے ساتھ ساتھ شہری کی جان کی حفاظت کا بھی اتنا ہی احساس کیوں نہیں ہونا چاہیے؟ اگر کسی شہری کو روکنا ضروری ہے تو کیا ایسا طریقہ اختیار نہیں کیا جا سکتا جس سے حادثے کا خطرہ کم سے کم ہو؟ اور اگر کسی اہلکار کی کارروائی سے شہری کی جان چلی جائے تو کیا صرف معطلی کافی ہے، یا شفاف تحقیقات کے ذریعے ذمہ داری کا تعین بھی ضروری ہے؟

راولپنڈی میں عدنان غیور کی شہادت ہمیں بتاتی ہے کہ پولیس اہلکار بھی اسی معاشرے کے انسان ہیں جو جرائم پیشہ افراد کے خلاف لڑتے ہوئے جان قربان کرتے ہیں۔ لاہور میں زین کی موت ہمیں یہ سوال کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ شہری بھی اسی ریاست کے برابر کے شہری ہیں اور ان کی جان بھی اتنی ہی قیمتی ہے۔

ریاست کی اصل طاقت صرف اس وقت نظر نہیں آنی چاہیے جب پولیس مجرم کے خلاف کارروائی کرے؛ ریاست کی طاقت اس وقت بھی نظر آنی چاہیے جب ایک عام شہری سڑک پر ہو اور اسے یقین ہو کہ قانون نافذ کرنے والا اہلکار اس کی حفاظت کرے گا، اس کی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈالے گا۔

ایک طرف وردی پہنے ایک افسر نے فرض کی ادائیگی میں جان قربان کر دی، دوسری طرف ایک عام نوجوان مبینہ طور پر ایک روکنے کی کوشش کے بعد زندگی ہار گیا۔ دونوں واقعات کو ایک ہی ترازو میں تولنا درست نہیں، مگر دونوں ہمیں ایک ہی بنیادی سوال تک لے جاتے ہیں: قانون کا مقصد صرف قانون توڑنے والے کو روکنا ہے یا ہر شہری کی جان کی حفاظت بھی؟

عدنان غیور جیسے پولیس شہداء کی قربانی کو سلام، لیکن زین جیسے شہریوں کی موت بھی محض ایک خبر بن کر فائلوں میں دفن نہیں ہونی چاہیے۔ ہر واقعے کی غیر جانب دار، شفاف اور قانون کے مطابق تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ وردی کی عزت بھی برقرار رہے اور شہری کا اعتماد بھی۔

کیونکہ قانون کی اصل عزت بندوق سے نہیں، انصاف سے قائم ہوتی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا