آج کی ٹوٹی پھوٹی اور شدید تقسیم کا شکار دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے، لیکن شاید کبھی اتنا ضروری بھی نہیں تھا۔ زندگی میں بعض ایسے کام ہوتے ہیں جو واقعی اہم ہوتے ہیں، اور انہیں مکمل کرنے کے لیے ہمیں ایسے لوگوں کے ساتھ بھی کام کرنا پڑتا ہے جن سے ہم اختلاف کرتے ہیں، جنہیں پسند نہیں کرتے، حتیٰ کہ جن پر اعتماد بھی نہیں کرتے۔ یہی وہ مشکل مقام ہے جہاں ایڈم کاہانے کی کتاب “Collaborating with the Enemy” ایک مختلف راستہ دکھاتی ہے۔
ایڈم کاہانے نے تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک پچاس سے زائد ممالک میں مختلف طبقات، گروہوں اور نظریات رکھنے والے لوگوں کے ساتھ کام کیا۔ ان کے تجربات میں کاروباری رہنماؤں سے لے کر سیاست دان، جرنیلوں سے لے کر باغی گروہوں کے نمائندے، سرکاری افسران سے لے کر مزدور رہنما تک شامل رہے۔ انہوں نے جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے نظام یعنی اپارتھائیڈ سے جمہوریت کی طرف منتقلی کے عمل میں لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے میں مدد دی، جبکہ کولمبیا میں ایسے رہنماؤں کے ساتھ بھی کام کیا جن کی کوششوں نے کئی دہائیوں پر محیط خانہ جنگی کے خاتمے کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کیا۔
ان کے تجربے کا نتیجہ انتہائی اہم ہے: تعاون کے بارے میں ہم جو کچھ روایتی طور پر سمجھتے آئے ہیں، وہ ہر صورت میں درست نہیں۔
عام طور پر تعاون کا تصور یہ ہے کہ پہلے اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے، اختلاف ختم کیا جائے اور پھر سب مل کر آگے بڑھیں۔ لیکن گہری تقسیم والے معاشروں میں یہ طریقہ اکثر ناکام ہو جاتا ہے۔ جب سامنے والا شخص آپ کا سیاسی، نظریاتی یا سماجی مخالف ہو اور آپ اسے اپنا “دشمن” سمجھنے لگے ہوں تو اتفاق پیدا ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے اختلاف کے باوجود ساتھ کام کرنا سیکھنا پڑتا ہے۔ کاہانے اسے “Stretch Collaboration” یعنی ایسا تعاون قرار دیتے ہیں جس میں انسان اپنے معمول کے دائرے سے باہر نکل کر اختلاف کے ساتھ کام کرنا سیکھتا ہے۔
پہلی اہم بات: تعاون کا مقصد ہم آہنگی نہیں، آگے بڑھنا ہے
کاہانے کے مطابق تعاون کا مطلب یہ نہیں کہ سب لوگ ایک دوسرے سے متفق ہو جائیں۔ اختلاف ختم کرنا ضروری نہیں؛ اصل ضرورت یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود کوئی مشترکہ کام آگے بڑھایا جا سکے۔ اتفاقِ رائے تعاون کی شرط نہیں بلکہ تعاون کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ممکنہ چیز ہے۔ اس لیے تنازع سے بھاگنے کے بجائے اسے سمجھنا اور اس کے اندر رہ کر راستہ نکالنا ضروری ہے۔
دوسری بات: اگر آپ مسئلے کا حصہ نہیں تو حل کا حصہ بھی نہیں
یہ شاید کتاب کا سب سے مشکل سبق ہے۔ کسی بھی پیچیدہ تنازع میں ہم خود کو غیر جانب دار تماشائی سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ ہم اکثر اس مسئلے کے ماحول اور اس کی حرکیات کا حصہ ہوتے ہیں۔ اگر حالات بدلنے ہیں تو صرف دوسروں کو بدلنے کی کوشش کافی نہیں؛ ہمیں اپنے کردار، رویے اور طرزِ عمل کو بھی دیکھنا ہوگا۔ تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ انسان خود میدان میں اترے۔
تیسری بات: مستقبل کو کنٹرول نہیں، صرف متاثر کیا جا سکتا ہے
ہم اکثر اس لیے تعاون سے گریز کرتے ہیں کہ ہمیں نتیجہ اپنے ہاتھ میں نظر نہیں آتا۔ کاہانے اس سوچ کو بدلنے کی دعوت دیتے ہیں۔ مستقبل کو مکمل طور پر کنٹرول کرنا ممکن نہیں، لیکن اسے متاثر ضرور کیا جا سکتا ہے۔ تعاون دراصل کسی پر اپنی مرضی مسلط کرنے کا نام نہیں بلکہ تجربہ کرنے، سیکھنے، غلطیوں کو سمجھنے اور حالات کے مطابق اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنے کا عمل ہے۔
چوتھی بات: مکمل سچ صرف ایک طرف نہیں ہوتا
شدید سیاسی یا سماجی تقسیم میں ہر فریق سمجھتا ہے کہ حقیقت صرف وہی دیکھ رہا ہے۔ کاہانے کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ ہر فریق کے پاس حقیقت کا ایک جائز اور اہم حصہ ہو سکتا ہے۔ تعاون کا مقصد یہ فیصلہ کرنا نہیں کہ کون مکمل طور پر درست ہے اور کون مکمل طور پر غلط، بلکہ مختلف نقطۂ نظر میں موجود سچائیوں کو ایک ساتھ سمجھنے کی کوشش کرنا ہے۔
پانچویں بات: طاقت اور محبت دونوں ضروری ہیں
کاہانے اپنی ایک اور معروف کتاب “Power and Love” میں طاقت اور محبت کے تعلق پر بات کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک طاقت کے بغیر محبت بے اثر ہو سکتی ہے، جبکہ محبت کے بغیر طاقت جبر بن سکتی ہے۔ مؤثر تعاون کے لیے دونوں کا توازن ضروری ہے۔ صرف طاقت ہو تو انسان دوسروں پر اپنی مرضی مسلط کرتا ہے، اور صرف محبت ہو تو شاید تبدیلی لانے کی صلاحیت ہی باقی نہ رہے۔ حقیقی تعاون دونوں قوتوں کے متوازن استعمال کا تقاضا کرتا ہے۔
“Collaborating with the Enemy” کوئی آسان یا آرام دہ کتاب نہیں۔ یہ ہمیں اپنے مفروضوں پر سوال اٹھانے پر مجبور کرتی ہے، مشکل لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کا حوصلہ دیتی ہے اور یہ تسلیم کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہر مسئلے کا کوئی سیدھا اور فوری حل نہیں ہوتا۔
لیکن اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی اس کی امید ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ شدید سیاسی، سماجی یا نظریاتی تقسیم کے باوجود پیش رفت ممکن ہے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ پہلے سب اختلاف ختم کریں۔ کبھی کبھی راستہ اس وقت نکلتا ہے جب لوگ اختلاف کو ختم کرنے کے بجائے اختلاف کے ساتھ مل کر کام کرنا سیکھتے ہیں۔
ایڈم کاہانے کا پیغام دراصل بہت سادہ مگر گہرا ہے: اگر آپ کو واقعی کوئی اہم کام انجام دینا ہے تو صرف اپنے دوستوں کے ساتھ چلنا کافی نہیں۔ بعض اوقات آپ کو ان لوگوں کے ساتھ بھی بیٹھنا پڑے گا جن سے آپ اختلاف کرتے ہیں، جنہیں پسند نہیں کرتے اور جن پر شاید اعتماد بھی نہیں کرتے۔
کیونکہ معاشرے اس وقت آگے نہیں بڑھتے جب سب ایک جیسا سوچنے لگیں؛ معاشرے اس وقت آگے بڑھتے ہیں جب مختلف سوچ رکھنے والے لوگ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ کچھ بہتر بنانے پر آمادہ ہو جائیں۔
