جڑواں شہر یا دو الگ دنیائیں؟

0
1

اسلام آباد اور راولپنڈی محض جڑواں شہر نہیں، بلکہ ایک ہی جغرافیے میں بسنے والی دو ایسی حقیقتیں ہیں جن کے درمیان فاصلے میلوں کے نہیں، معاشی حیثیت، انتظامی ترجیحات اور طبقاتی سوچ کے ہیں۔ اگر انہیں جڑواں بہن بھائی کہا جائے تو راولپنڈی وہ بہن محسوس ہوتا ہے جسے ہر مشکل میں بھائی کا سہارا چاہیے، جبکہ اسلام آباد وہ صاحبِ حیثیت بھائی ہے جو رشتہ تو مانتا ہے، مگر ذمہ داری سے نظریں چرا لیتا ہے۔

اسلام آباد کی صاف ستھری سڑکیں، سرسبز سیکٹر، بہتر منصوبہ بندی اور نسبتاً منظم شہری سہولتیں دیکھ کر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب صرف جغرافیہ کا کمال ہے؟ دوسری طرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر راولپنڈی میں ٹوٹی سڑکیں، تجاوزات، گندا پانی، ٹریفک کا دباؤ، نالہ لئی کی آلودگی اور بنیادی شہری سہولتوں کی کمی کیوں معمول بن چکی ہے؟ کیا دونوں شہروں پر سورج الگ الگ طلوع ہوتا ہے؟ کیا بارش اسلام آباد میں رحمت اور راولپنڈی میں انتظامی امتحان بن جاتی ہے؟ یا اصل فرق موسم کا نہیں، حکومتی ترجیحات کا ہے؟

سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ دونوں شہروں کے درمیان رہنے والے شہریوں کو اکثر ایک عجیب انتظامی تقسیم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک طرف موسم کی شدت کے باعث سکول بند ہوتے ہیں تو دوسری طرف چند منٹ کے فاصلے پر سکول معمول کے مطابق کھلے رہتے ہیں۔ سردی، گرمی، بارش اور دھند سرحد دیکھ کر اپنا اثر نہیں بدلتے، لیکن انتظامی فیصلے ضرور بدل جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے موسم بھی فائلوں اور نوٹیفکیشنز کا محتاج ہو گیا ہو۔

مسئلہ صرف اسلام آباد اور راولپنڈی کا نہیں۔ یہی طبقاتی فرق ہمیں ڈی ایچ اے اور عام شہری آبادی کے درمیان بھی دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف کشادہ سڑکیں، منظم پارکس، بہتر صفائی، سکیورٹی اور شہری سہولتیں ہیں، دوسری طرف عام آدمی کی بستی میں بنیادی ضرورتیں بھی جدوجہد بن جاتی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کسی علاقے کو بہتر سہولتیں کیوں ملتی ہیں؛ سوال یہ ہے کہ عام شہری کو بنیادی سہولتیں اس کے علاقے اور حیثیت کی بنیاد پر کیوں نہیں ملتیں؟

جو شہری ٹیکس دیتا ہے، بجلی کے بل ادا کرتا ہے، پٹرول پر ٹیکس دیتا ہے، روزمرہ کی ہر خریداری پر بالواسطہ ٹیکس دیتا ہے، وہ آخر شہری سہولتوں میں برابر کا حق دار کیوں نہیں؟ اگر ریاست کی ذمہ داری صرف ان علاقوں تک محدود ہو جائے جہاں وسائل رکھنے والے لوگ رہتے ہیں تو پھر باقی شہری کس ریاست کے باشندے ہیں؟

راولپنڈی کو اسلام آباد کا غریب رشتہ دار سمجھنا بھی دراصل اسی طبقاتی ذہنیت کی علامت ہے۔ کسی شہر کے رہنے والوں کو غیر مہذب یا کم تر سمجھنا مسئلے کا حل نہیں؛ اصل بدتہذیبی تو اس سوچ میں ہے جو شہریوں کی عزت اور سہولت کو ان کی جیب سے ناپتی ہے۔ شہر خود غریب یا امیر نہیں ہوتے، شہروں کو انتظامی فیصلے، سرمایہ کاری اور سیاسی ترجیحات غریب یا امیر بناتے ہیں۔

نالہ لئی کو صرف ایک بدبودار نالہ سمجھ کر آگے بڑھ جانا بھی آسان ہے، مگر حقیقت میں یہ پورے شہری نظام کا آئینہ ہے۔ اس میں صرف گندا پانی نہیں بہتا؛ اس میں برسوں کی ناقص منصوبہ بندی، تجاوزات، کمزور بلدیاتی نظام، ماحولیاتی بے حسی اور انتظامی غفلت بھی دکھائی دیتی ہے۔ اسلام آباد کے صاف ستھرے سبزہ زاروں سے راولپنڈی کی طرف نگاہ جائے تو فرق صرف خوبصورتی کا نہیں، ریاستی توجہ کے معیار کا محسوس ہوتا ہے۔

یہ کہنا آسان ہے کہ یہ سب قسمت کا کھیل ہے۔ مگر ہر مسئلے کو قسمت قرار دینا دراصل ذمہ داری سے فرار کی ایک خوب صورت شکل ہے۔ غریب شہری کا بچہ اگر بہتر سکول، صاف پانی، محفوظ سڑک اور صحت کی سہولت سے محروم ہے تو اسے قسمت کہہ دینا ناانصافی ہے۔ جب ایک ہی ملک میں کچھ شہری بنیادی سہولتوں کو حق سمجھ کر حاصل کریں اور کچھ شہری انہی سہولتوں کے لیے دہائیاں انتظار کریں تو وہاں سوال قسمت سے زیادہ نظام اور ترجیحات پر اٹھتا ہے۔

جڑواں شہروں کی اصل کہانی یہی ہے: ایک ہی موسم، ایک ہی ہوا، ایک ہی ملک، مگر مختلف معیارِ زندگی۔ مسئلہ اسلام آباد کو نیچا دکھانا نہیں اور نہ راولپنڈی کو کسی رحم کا محتاج ثابت کرنا ہے۔ اصل مطالبہ یہ ہے کہ شہری سہولتیں مراعات نہ رہیں، حقوق بنیں۔

اگر ریاست واقعی سب شہریوں کو برابر سمجھتی ہے تو پھر راولپنڈی کے شہری کو اسلام آباد کی صفائی، منصوبہ بندی اور بنیادی سہولتوں کی حسرت کیوں ہو؟ اور عام شہری کو ڈی ایچ اے کی منظم زندگی دیکھ کر یہ احساس کیوں ہو کہ وہ اسی شہر، اسی ملک اور اسی ریاست کا کم اہم شہری ہے؟

یہ قسمت نہیں ہونی چاہیے۔
یہ انتظامی انصاف کا سوال ہے۔

اور جب تک شہری سہولتوں کا معیار انسان کی حیثیت، علاقے اور جیب کے بجائے اس کی شہریت کی بنیاد پر طے نہیں ہوگا، تب تک یہ جڑواں شہر ساتھ ساتھ رہیں گے ضرور، مگر ان کے درمیان موجود طبقاتی خلیج مزید گہری ہوتی رہے گی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا