نورین نیازی کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت، اڈیالہ جیل میں دوبارہ ملاقات

0
2

پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان سے ان کی بہن نورین نیازی کو ایک بار پھر ملاقات کی اجازت مل گئی، جس کے بعد وہ راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کی جانب روانہ ہوئیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عمران خان اور ان کے اہلِ خانہ کی ملاقاتوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کی حالیہ ہدایات کے بعد ملاقاتوں کا سلسلہ دوبارہ بحال ہوا ہے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق نورین نیازی 25 اگست کو دوبارہ اڈیالہ جیل پہنچیں اور بعد ازاں عمران خان سے ان کی ملاقات بھی ہوئی۔ جیل ذرائع کے مطابق یہ ملاقات تقریباً 40 منٹ جاری رہی اور کانفرنس روم میں ہوئی۔

یہ نورین نیازی کی عمران خان سے چند ہی دنوں میں دوسری ملاقات ہے۔ اس سے قبل 18 اگست کو بھی انہیں اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی گئی تھی۔ اس وقت کی ملاقات تقریباً 14 سے 15 منٹ جاری رہی تھی۔

سپریم کورٹ کی ہدایات کے بعد ملاقاتیں بحال

ملاقاتوں میں یہ پیش رفت سپریم کورٹ کی ان ہدایات کے بعد سامنے آئی ہے جن کے تحت عمران خان کو اپنے اہلِ خانہ سے ہفتہ وار ملاقاتوں کی سہولت دینے کی ہدایت کی گئی۔ عدالت نے ان کی صحت کے حوالے سے طبی معائنے اور اہلِ خانہ سے رابطے کو بھی اہم قرار دیا تھا۔

حالیہ عدالتی پیش رفت میں عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت بھی شامل تھی، جبکہ عدالت نے طبی ماہرین پر مشتمل بورڈ اور ان کے ذاتی معالج تک رسائی سے متعلق بھی احکامات دیے تھے۔

دوسری جانب آج اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے لیے خاندان اور وکلا کی فہرست بھی جیل حکام کو فراہم کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اس فہرست میں پی ٹی آئی کے متعدد وکلا اور رہنماؤں کے نام شامل ہیں۔

اس سے قبل عمران خان کی بہنوں اور اہلِ خانہ کی ملاقاتوں پر پابندی یا تاخیر کے باعث سیاسی حلقوں میں بھی معاملہ زیرِ بحث رہا، لیکن اب سپریم کورٹ کی ہدایات کے بعد ملاقاتوں کا راستہ نسبتاً کھلتا دکھائی دے رہا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ ملاقاتوں کے حوالے سے عدالت کی ہدایات میں سیاسی سرگرمی یا میڈیا بیانات سے متعلق شرائط بھی شامل ہیں، یعنی اہلِ خانہ اور پارٹی نمائندگان کو ملاقات کے بعد سیاسی سرگرمی سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔

یوں نورین نیازی کی تازہ ملاقات کو صرف ایک خاندانی ملاقات کے طور پر نہیں بلکہ عمران خان تک اہلِ خانہ کی رسائی سے متعلق جاری قانونی اور سیاسی معاملے کی ایک اہم پیش رفت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا