پمز ہسپتال کی نرسری میں ہولناک آتشزدگی، متعدد نومولود جاں بحق، صرف ایک بچہ زندہ بچ سکا

0
1

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے گائنی وارڈ کی نرسری میں بدھ کی صبح لگنے والی ہولناک آگ نے کئی خاندانوں سے ان کے نومولود بچے چھین لیے۔

ریسکیو اور ہسپتال حکام کے مطابق آگ صبح تقریباً 6 بج کر 45 منٹ سے 7 بجے کے درمیان نرسری میں لگی، جہاں اس وقت متعدد نومولود زیرِ علاج تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق نرسری میں 16 بچے موجود تھے اور صرف ایک نومولود کو زندہ نکالا جا سکا۔

مقامی ذرائع نے ابتدا میں 15 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاع دی، تاہم بعد کی رپورٹنگ میں اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد 14 بتائی گئی۔ واقعے کی حتمی تعداد کے بارے میں سرکاری تصدیق کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکا یا خرابی بتائی جا رہی ہے۔ بعض ابتدائی اطلاعات میں شارٹ سرکٹ کا امکان بھی ظاہر کیا گیا، تاہم آگ لگنے کی حتمی وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

آگ نرسری میں تیزی سے پھیلی، جس کے بعد ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر کارروائی شروع کی۔ فائر بریگیڈ کی گاڑیوں اور ایمبولینسز نے موقع پر پہنچ کر آگ بجھانے اور بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوشش کی۔ اطلاعات کے مطابق ریسکیو اہلکاروں نے نرسری تک رسائی کے لیے کھڑکی کا شیشہ بھی توڑا۔

آگ پر قابو پانے کے بعد ریسکیو ٹیموں نے عمارت میں کولنگ کا عمل شروع کیا تاکہ دوبارہ آگ بھڑکنے کے خطرے کو ختم کیا جا سکے۔ متاثرہ وارڈ کو بھی گھیرے میں لے لیا گیا اور واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور غفلت ثابت ہونے کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب والدین اپنے نومولود بچوں کے علاج اور صحت یابی کی امید لیے ہسپتال میں موجود تھے۔ چند ہی لمحوں میں نرسری سے اٹھنے والے شعلوں نے کئی خاندانوں کی خوشیاں ماتم میں بدل دیں۔

واقعے نے ملک کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور برقی و ایئر کنڈیشننگ نظام کی حفاظت سے متعلق اہم سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔ تاہم ان معاملات پر حتمی رائے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی قائم کی جا سکے گی۔

یہ ایک ترقی پذیر خبر ہے، اور ہلاکتوں کی حتمی تعداد سمیت مزید تفصیلات سرکاری تحقیقات اور حکام کی تصدیق کے بعد سامنے آنے کا امکان ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا