تلنگانہ: بھارتی ریاست تلنگانہ کے ضلع نلگنڈہ میں 48 سالہ اسکول پرنسپل کالو روپا ریڈی کے قتل کا معمہ پولیس نے حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس نے قتل کے الزام میں دسویں جماعت کے دو طالب علموں کو گرفتار کیا ہے۔
روپا ریڈی 12 اگست کو اپنے گھر میں مردہ پائی گئی تھیں۔ پولیس کے مطابق ان کے جسم پر چاقو کے متعدد زخم تھے۔ واقعے کے بعد تفتیش کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں اور سی سی ٹی وی، فرانزک شواہد، فنگر پرنٹس اور مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا گیا۔
تفتیش کے دوران پولیس کی توجہ اسکول کے چند ایسے طلبا کی طرف گئی جو قتل کے بعد غیر معمولی طور پر اسکول سے غیر حاضر تھے۔ ان میں دو طالب علم ایسے بھی تھے جو اچانک زیادہ رقم خرچ کر رہے تھے اور دوستوں کو پارٹیاں دے رہے تھے۔
پولیس کے مطابق دونوں طلبا پہلے پرنسپل کی جانب سے ڈانٹ اور ہاسٹل میں ان کے سامان سے مبینہ طور پر نقد رقم اور موبائل فون ملنے کے باعث ناراض تھے۔ بعد میں دونوں نے مبینہ طور پر رقم حاصل کرنے کے لیے پرنسپل کے گھر میں ڈکیتی کا منصوبہ بنایا۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ طلبا نے کئی دن تک گھر کی نگرانی کی، چاقو اور دستانے خریدے اور واردات کے لیے منصوبہ بندی کی۔ پولیس کے مطابق گھر میں داخل ہونے والے ایک طالب علم کو پرنسپل نے پہچان لیا، جس کے بعد صورتحال مبینہ طور پر قتل میں تبدیل ہوگئی۔
پولیس نے ملزمان کے قبضے سے بھارتی کرنسی، ایک آئی فون، مقتولہ کا موبائل فون اور دیگر اشیا برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ بعض نوٹوں پر خون کے نشانات ملنے کی بھی بات سامنے آئی ہے۔
تفتیش میں یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ دونوں طالب علم مبینہ طور پر انٹرنیٹ پر جلدی پیسہ کمانے کے طریقے تلاش کر رہے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور کیس میں قانون کے مطابق کارروائی جاری ہے۔ تاہم ملزمان پر عائد الزامات کی حتمی حیثیت عدالت میں طے ہوگی۔
