تہران: امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی، آبنائے ہرمز اور مستقبل کے مذاکرات پر اختلافات کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔ اسی ماحول میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مشیر بریگیڈیئر جنرل محمد رضا نقدی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
جنرل نقدی نے ٹرمپ کو غیر قابلِ اعتماد، تنگ نظر اور بچکانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کے بیانات میں مستقل مزاجی نظر نہیں آتی اور ان کی پالیسیوں میں طویل المدتی وژن کا فقدان ہے۔
ایرانی جنرل کا کہنا تھا کہ ایران کو امریکا کے زبانی وعدوں پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے جب تک ان کے پیچھے واضح اور قابلِ عمل ضمانتیں موجود نہ ہوں۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’مجھے ڈونلڈ ٹرمپ سے زیادہ ایک ٹیکسی ڈرائیور کی بات پر بھروسا ہے۔‘‘
جنرل نقدی نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کے خلاف اپنے اہم مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن ایران میں حکومت کی تبدیلی اور ملک کو تقسیم کرنے جیسے اہداف رکھتا تھا، لیکن یہ مقاصد پورے نہیں ہوسکے۔
دوسری جانب جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق مذاکرات میں تعطل کے باعث خطے میں بے یقینی برقرار ہے۔ ایسے میں دونوں جانب سے سخت بیانات صورتحال کو مزید حساس بنا رہے ہیں۔
تاہم ایرانی جنرل کے یہ دعوے ان کا مؤقف ہیں، جبکہ امریکا نے ایران کے حوالے سے اپنے اقدامات اور اہداف کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا دونوں ممالک دوبارہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں یا سخت بیانات اور معاشی دباؤ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیتے ہیں؟
