راولپنڈی میں ڈرگ انسپکٹر اور مبینہ فرنٹ مین کے خلاف شکایات، شفاف تحقیقات کا مطالبہ

0
1

راولپنڈی: محکمہ صحت راولپنڈی کے ڈرگ انسپکٹر حافظ منیر اور ان سے منسلک بتائے جانے والے عمیر نامی شخص کے حوالے سے مختلف میڈیکل اسٹور مالکان کی جانب سے سنگین نوعیت کی شکایات اور الزامات سامنے آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ شکایات میں مبینہ طور پر بعض میڈیکل اسٹورز سے ماہانہ رقم وصول کرنے اور رقم نہ دینے کی صورت میں کارروائی یا لائسنس منسوخ کروانے کی دھمکیاں دینے کے الزامات شامل ہیں۔

متاثرہ حلقوں کے مطابق عمیر نامی شخص بعض میڈیکل اسٹور مالکان سے رابطہ کرکے مبینہ طور پر ماہانہ رقم وصول کرتا ہے اور خود کو ڈرگ انسپکٹر حافظ منیر سے منسلک ظاہر کرتا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی تاحال آزادانہ یا سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی، اس لیے ان الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔

اس معاملے میں محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اگر شکایات بے بنیاد ہیں تو حقائق واضح کیے جائیں، جبکہ الزامات میں صداقت پائی جائے تو قانون کے مطابق ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔

دوسری جانب بعض میڈیکل اسٹورز کے حوالے سے بھی شکایات سامنے آئی ہیں کہ وہاں بی کیٹیگری لائسنس رکھنے والے افراد مبینہ طور پر مطلوبہ قانونی اور تعلیمی اہلیت کے تقاضے پورے کیے بغیر میڈیکل اسٹور چلا رہے ہیں۔ بعض مقامات پر ادویات فروخت کرنے کے ساتھ مبینہ طور پر مریضوں کو طبی مشاورت یا پریکٹس فراہم کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔

اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو معاملہ صرف انتظامی خلاف ورزی تک محدود نہیں رہتا بلکہ براہِ راست عوام کی صحت اور زندگیوں سے جڑا ایک انتہائی حساس مسئلہ بن جاتا ہے۔

متعلقہ حکام سے مطالبہ ہے کہ راولپنڈی اور خصوصاً پوٹھوہار ریجن کے میڈیکل اسٹورز کا بلاامتیاز اور شفاف معائنہ کیا جائے۔ انسپیکشن کے دوران لائسنس، کیٹیگری، کوالیفائیڈ پرسن کی موجودگی، ادویات کے ریکارڈ، خرید و فروخت اور دیگر قانونی تقاضوں کی مکمل جانچ کی جائے۔

اسی طرح حافظ منیر اور عمیر کے خلاف سامنے آنے والی شکایات کی بھی غیر جانب دارانہ محکمانہ انکوائری ہونی چاہیے۔ اگر کسی میڈیکل اسٹور مالک سے غیر قانونی رقم وصول کرنے، دھمکانے یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے شواہد سامنے آتے ہیں تو متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔

شکایات میں متعلقہ افراد کے ملازمت کے دوران مبینہ طور پر غیر معمولی اثاثے بنانے کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ اس حوالے سے بھی اگر سرکاری ریکارڈ میں کوئی قابلِ ذکر تضاد سامنے آئے تو متعلقہ ادارے قانون کے مطابق آمدن، اثاثوں اور مالی معاملات کی جانچ کر سکتے ہیں۔

تاہم یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی شخص کو صرف الزامات یا شکایات کی بنیاد پر قصوروار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تمام معاملات کی دستاویزی، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کے بعد ہی حقیقت سامنے آ سکتی ہے۔

ادارے کا مؤقف: حافظ منیر، ڈرگ انسپکٹر، اور عمیر اگر ان الزامات اور شکایات کے حوالے سے اپنا مؤقف ریکارڈ کروانا چاہیں تو ادارہ غیر جانب دارانہ صحافتی اصولوں کے تحت ان کا مؤقف مناسب جگہ پر شامل کرنے کے لیے تیار ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا