جاپان کا ’’کوڈوکوشی‘‘ پاکستان کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی؟ تنہائی میں اموات بڑھنے کا الارم

0
2

جاپان میں ایک ایسا سماجی بحران تیزی سے نمایاں ہو رہا ہے جو بظاہر صرف ایک ملک کا مسئلہ ہے، لیکن اس میں پاکستان سمیت دنیا کے کئی معاشروں کے لیے ایک بڑا سبق چھپا ہے۔ جاپانی زبان میں اسے ’’کوڈوکوشی‘‘ (Kodokushi) کہا جاتا ہے، یعنی ایسی تنہا موت جس میں کسی شخص کا انتقال گھر میں ہو جائے اور کئی دنوں یا بعض اوقات اس سے بھی زیادہ عرصے تک کسی کو اس کی خبر نہ ہو۔

جاپان میں 2024 کے دوران پولیس نے 77 ہزار سے زائد ایسے کیسز رپورٹ کیے، جبکہ ان میں تقریباً ایک تہائی افراد کی عمریں 85 سال یا اس سے زیادہ تھیں۔ یہ اعداد صرف اموات کا ریکارڈ نہیں بلکہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی تنہائی، کمزور ہوتے خاندانی روابط اور تیزی سے بدلتے طرزِ زندگی کی ایک سنگین تصویر بھی پیش کرتے ہیں۔

کبھی جاپان اور پاکستان میں بڑا فرق تھا

جاپان میں کئی دہائیوں سے مشترکہ خاندانی نظام کمزور ہوتا گیا، نوجوان روزگار کے لیے دوسرے شہروں میں منتقل ہوئے اور بزرگ افراد بڑی تعداد میں تنہا رہنے لگے۔

پاکستانی معاشرے کی روایتی طاقت اس کے برعکس مشترکہ خاندان اور خاندانی تعلقات رہے ہیں۔ ہمارے ہاں والدین کے ساتھ رہنا، بزرگوں کی دیکھ بھال کرنا، رشتہ داروں کا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا اور مشکل وقت میں خاندان کا سہارا بننا معاشرتی اقدار کا حصہ رہا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان بھی آہستہ آہستہ اسی سمت تو نہیں بڑھ رہا؟

شہروں میں مصروف زندگی، روزگار کے لیے بیرونِ ملک یا دوسرے شہروں میں منتقلی، چھوٹے خاندان، مہنگائی، گھروں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور نئی نسل کا بدلتا طرزِ زندگی خاندانی فاصلے بڑھا رہے ہیں۔

آج ایک گھر میں والدین موجود ہیں، لیکن بچے دوسرے شہر میں ہیں۔ کل ممکن ہے بچے بیرونِ ملک ہوں اور والدین اپنے گھر میں اکیلے رہ رہے ہوں۔

پاکستان کے لیے اصل خطرہ کیا ہے؟

پاکستان میں جاپان جیسی صورتحال کو ابھی اسی پیمانے پر قرار دینا درست نہیں، کیونکہ ہمارے خاندانی اور سماجی ڈھانچے میں اب بھی مضبوط تعلقات موجود ہیں۔ لیکن بزرگ افراد کی تنہائی، سماجی رابطوں میں کمی اور خاندانوں کا جغرافیائی طور پر بکھرنا ایک ایسا رجحان ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

خاص طور پر ان خاندانوں میں جہاں بچے بیرونِ ملک مقیم ہیں، والدین عمر رسیدہ ہو چکے ہیں اور ان کے پاس روزمرہ زندگی میں مدد یا مستقل رابطے کا محدود نظام موجود ہے۔

یہاں ایک اور مسئلہ بھی ہے: ہمارے معاشرے میں اکثر بزرگ اپنی مشکلات بچوں کو بتانے سے گریز کرتے ہیں۔ وہ بیماری، مالی پریشانی یا تنہائی برداشت کرتے رہتے ہیں تاکہ بچوں پر بوجھ نہ بنیں۔

ہمیں ابھی سے کیا کرنا چاہیے؟

اس مسئلے کا حل صرف حکومت کے پاس نہیں بلکہ خاندان، محلہ، معاشرہ اور ریاست سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

سب سے پہلے خاندانوں کو ایک اصول بنانا چاہیے: اگر والدین یا کوئی بزرگ اکیلے رہتے ہیں تو روزانہ فون یا ویڈیو کال معمول بنائی جائے۔ صرف یہ پوچھنا کافی نہیں کہ ’’آپ ٹھیک ہیں؟‘‘ بلکہ باقاعدگی سے ان کی صحت، ادویات، کھانے اور روزمرہ ضروریات کا بھی خیال رکھا جائے۔

دوسرا قدم محلے کی سطح پر اٹھایا جا سکتا ہے۔ مساجد، کمیونٹی تنظیمیں اور مقامی فلاحی ادارے ایسے بزرگ افراد کا ریکارڈ رکھ سکتے ہیں جو اکیلے رہتے ہیں اور باقاعدگی سے ان کی خیریت دریافت کر سکتے ہیں۔

تیسرا، مقامی حکومتوں کو بزرگ افراد کے لیے خصوصی ہیلپ لائن اور ویلفیئر چیک پروگرام شروع کرنے چاہئیں، تاکہ کسی بزرگ کی مسلسل غیر حاضری یا ہنگامی صورتحال کی صورت میں فوری مدد پہنچائی جا سکے۔

چوتھا، بزرگ افراد کو معاشرے سے کاٹنے کے بجائے دوبارہ سماجی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ کمیونٹی سینٹرز، بزرگوں کے لیے سرگرمیاں، صحت کے کیمپ اور باقاعدہ سماجی میل جول تنہائی کے مسئلے کو کم کر سکتے ہیں۔

اور سب سے اہم بات:

والدین کی دیکھ بھال صرف ایک اخلاقی ذمہ داری نہیں، یہ ہماری معاشرتی بقا کا بھی سوال ہے۔

جاپان کا ’’کوڈوکوشی‘‘ ہمیں خبردار کر رہا ہے کہ معاشی ترقی اور جدید طرزِ زندگی اگر خاندانی تعلقات اور انسانی رابطوں کو کمزور کر دے تو انسان لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی تنہا ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے پاس آج بھی ایک مضبوط خاندانی نظام موجود ہے۔ ہمیں اسے کمزور ہونے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔

کیونکہ کسی بزرگ کی موت کے بعد اس کی خبر ملنا صرف ایک سانحہ نہیں؛ اصل سانحہ یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں خود کو اتنا اکیلا محسوس کرے کہ اسے کسی کے دروازے پر دستک دینے والا بھی میسر نہ ہو۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا